نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائیگا۔ وفاقی حکومت نے بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیارکرنے کا فیصلہ کیاہے،تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینے کی تجویز ہے،آئی ایم ایف کی مشاورت سے سپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی،بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27کے بجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے،خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا،اسپیشل اکنامک زونزکو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔ایکسپورٹ زونزمیں تیارمصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پرپابندی ہوگی،بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قراردیاجائے گا،آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پربھی زوردیا ہے
بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھیچودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے آڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئے اکنامک زونز بنانے پرفی الحال پابندی عائد رہے گی،بجٹ میں زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وارنرمی کی جائے گی،جبکہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری 2027تک قائم کی جائے گی۔

