Skip to main contentSkip to footer

پاکستان جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا

Pakistan benefits from war economy

Table of Contents

 

پاکستان دنیا بھر میں جاری جنگ کے تناظر میں ایندھن کی قیمتوں کے بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا ہے

حالیہ عالمی صورتحال میں خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے نے تیل کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالا ہے اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی — اس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے 85 سے زائد ممالک پر پڑا ہے، جہاں پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتیں اوپر گئی ہیں۔

پاکستان میں 3 اپریل 2026 کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لیٹر یعنی 42.7 فیصد اضافہ کر کے اسے تقریباً Rs. 458.40 فی لیٹر اور ڈیزل کو Rs. 520.35 فی لیٹر تک پہنچا دیا، جو ملکی تاریخ میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی اور ایران تنازعے کے باعث قیمتوں میں سپلائی چیلنج کے تناظر میں قرار دیا ہے۔

یہ اضافہ عوام کے لیے ایک بھاری معاشی بوجھ بن گیا ہے، خاص طور پر کیونکہ پاکستان ایک خام تیل درآمدی ملک ہے اور تیل کی سپلائی بنیادی طور پر خلیج فارس سے آتی ہے، جو اس تنازعے میں متاثر ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر بھی توانائی کی قیمتیں بلند ہوئیں اور دوسرے ممالک میں بھی پیٹرول کے ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔

Pakistan benefits from war economy

گلوبل ڈیٹا حقیقت میں یہ بتاتا ہے کہ پاکستان دنیا میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ نامیاتی لحاظ سے نہیں بلکہ آمدنی کے تناسب سے بہت مہنگی ہے۔ یعنی پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدنی کے مقابلے میں پیٹرول کے نرخ دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے کم برداشت کے قابل ہیں،

جہاں صرف ایتھوپیا پاکستان سے بھی بدتر پوزیشن پر ہے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد عالمی ایندھن قیمتوں اور ملکی آمدنی کے حساب سے کی گئی ہے، نہ کہ صرف قیمت ریٹ کے لحاظ سے۔

یہ حقیقت وضاحت کرتی ہے کہ اگرچہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت کا نمبر بہت اونچا ہے، دنیا میں سب سے مہنگی قیمت کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول کی حقیقی مہنگائی مختلف عوامل کا مجموعہ ہے، جس میں عالمی خام تیل کی قیمتیں، درآمدی لاگت اور ملک میں عائد ٹیکسز اور لیویز شامل ہیں۔ عوام ہر لیٹر پیٹرول پر تجزیوں کے مطابق تقریباً 100 روپے تک ٹیکس ادا کرتے ہیں، جو قیمت کا ایک بہت بڑی حصہ بنتا ہے، جبکہ ڈیزل پر بھی ٹیکس کا بوجھ بہت بھاری ہے۔

اسی دوران پاکستانی کمپنیوں نے مارچ 2026 میں پٹرول کی فروخت میں 19 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا — حالانکہ قیمتیں اوپر گئیں، اس کے باوجود صارفین کی طلب برقرار رہی، جو معاشی سرگرمی اور نقل و حمل کی ضروریات کی وجہ سے برقرار رہی۔

اعلامیہ حکومتی بیان اور معاشی تجزیوں کے مطابق، دنیا بھر میں قیمتوں کے بڑھنے کا سبب بنیادی طور پر وہی عالمی جنگ کے اثرات اور سپلائی کی مشکلات ہیں جن کا سیلاب پاکستان پر بھی آیا، اور حکومت نے نجی اور سرکاری سبسڈی کو دباؤ میں رکھنے کے بعد قیمتوں کو ریگولیٹ کیا ہے تاکہ خسارے کو کنٹرول کیا جا سکے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں پٹرول نہ صرف عالمی مارکیٹ کے تناظر میں بڑھا ہے بلکہ اوسط عوام کے لیے اسے ادا کرنا اب بہت زیادہ بوجھ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل اور سیاسی مباحثے بھی سامنے آئے ہیں، اور عوام میں احساسِ عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ماہرین اور بین الاقوامی ادارے، جیسے IMF، بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اس جنگ کے باعث توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، اور عالمی معاشی نمو کے سست ہونے جیسے عناصر دنیا بھر کے صارفین اور معیشتوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

 

آؓبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز بھی گزرگئے، 28 دن کا سٹاک بھی موجود، پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟

Previous Post
حکومتی قرضے بڑھنے سے ہر پاکستانی سوا تین لاکھ روپے کا مقروض