پاکستان کا رمضان سے قبل افغانستان پر حملے کا امکان
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔ اس لئے ان کے خاتمے کیلئے امکان ہے کہ اسی ہفتے ایک بڑی کارروائی کی جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے تمام صوبے ایک پیج پر آ رہے ہیں، کم از کم وفاق اور کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں اس کے علاوہ دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔

