نوشہرہ میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق جب پولیس اہلکار مختلف علاقوں میں غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کو حراست میں لیتے ہیں تو ان سے 20 ہزار سے 50 ہزار روپے تک رشوت لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں اس غیر قانونی عمل نے ایک باقاعدہ ”رشوت بازار” کی شکل اختیار کر لی ہے، جو قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس قسم کی بدعنوانی نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملک کی بدنامی کا بھی باعث بن رہی ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا مقامی عمائدین اور سماجی شخصیات نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی سے نہ صرف انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی بحال ہو گی شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
موٹر سائیکل سوار ماہانہ 2000 روپے گھر بیٹھے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ طریقہ سامنے آگیا

