صوبائی وزیر برائے بلدیات و اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کے کوہاٹ کے ایک روزہ دورے کے دوران سادگی اور حکومتی بچت کے دعوے ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے جب ان کے ہمراہ 30 سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیوں پر مشتمل طویل قافلہ شہر ی علاقوں میں سڑکوں پر رینگتا رہا۔
عوامی حلقوں نے اسے حکومتی کفایت شعاری پالیسیوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔صوبائی وزیر ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے زیر تعمیرآبنوشی’ سیوریج اور ٹریٹمنٹ پلانٹس سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کوہاٹ پہنچے۔
تاہم اس دورے کی افادیت کے ساتھ ساتھ سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ ایک طرف حکومت اخراجات کم کرنے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب وزراء کے طویل پروٹوکول اور بڑے قافلے ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس موقع پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، معاون خصوصی شفیع جان، چیئرمین ڈیڈیک، ایم پی اے داؤد آفریدی، سیکرٹری بلدیات، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کوہاٹ، پی ایم یو پشاور کی ٹیم، کنسلٹنٹس، واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن کمپنی کوہاٹ کے حکام، سابق ناظمین اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
ناقدین کے مطابق اس قدر بڑی تعداد میں سرکاری و غیر سرکاری افراد کی موجودگی نہ صرف وسائل پر بوجھ ہے بلکہ یہ انتظامی سادگی کے دعوئوں کے بھی برعکس ہے۔
یہ بھی پڑھیں

