سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطی کے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا ایک اجتماعی بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بالخصوص ان ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جنہوں نے سنہ 1995 کی قرارداد کی سرپرستی کی تھی۔ مملکت نے اشارہ کیا کہ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلا ئوکے معاہدے میں شامل ہونے سے مسلسل انکار اس خطے کو ایٹمی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
سعودی عرب نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے عالمی نظام کا ایک بنیادی ستون قرار دیا اور اس کی دفعات پر مکمل عمل درآمد اور اس کے تینوں ستونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے معاہدے کی جائزہ کانفرنس کے گیارہویں سیشن کے عام مباحثے کے دوران اپنے خطاب میں کہی۔
اسی تناظر میں مملکت نے ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے اسلحے کی کمی کے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال نہ ہونے کی واحد ضمانت ان کا مکمل اور حتمی خاتمہ ہے۔متوازی طور پر مملکت نے معاہدے کی دفعات کے مطابق اور کسی اضافی پابندی کے بغیر ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے حوالے سے رکن ممالک کے بنیادی حق پر بھی زور دیا تاکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ شفافیت اور تعاون کو فروغ مل سکے۔
علاوہ ازیں مملکت کے خطاب میں سعودی عرب کے خلاف ایرانی حملوں کا بھی ذکر کیا گیا جن میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کی عالمی برادری نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 سنہ 2026 کے تحت مذمت کی تھی۔ سعودی عرب نے علاقائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، حسن جوار کے اصولوں کے احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور ایران کی جانب سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس کے ایٹمی پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی دوران مملکت نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کی دوبارہ مذمت کی۔ ساتھ ہی مملکت نے شہری تنصیبات پر ایرانی حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی بھی مذمت کی۔سعودی عرب نے القدس اور اس کے اسلامی مقدسات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا اور غیر قانونی بستیوں کے قیام کی مذمت کی کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور امن کے مواقع کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے حصول کے لیے فوری جنگ بندی، جبری بے دخلی کا خاتمہ، غزہ سے انخلا اور سنہ 1967 کی حدود پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔
