عظیم فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو، لیونل میسی، نیمار، لوکا موڈرچ، محمد صلاح اور دیگر تجربہ کار ستارے ممکنہ طور پر اپنے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے ۔تفصیلات کے مطابق 41سالہ پرتگالی اسٹار کرسٹیانو رونالڈو اپنے ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کرینگے ،رونالڈو نے رواں سیزن میں النصر کے لیے 37 میچز میں 30 گول اسکور کیے جبکہ پرتگال کے لیے ان کے مجموعی گولز کی تعداد 143 تک پہنچ چکی ہے
وہ اس ایونٹ میں 150 انٹرنیشنل گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کرسکتے ہیں،رونالڈو کے شاندار کیریئر کے باجود وہ آج تک ورلڈکپ ٹرافی اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔38 سالہ لیونل میسی بھی اپنے ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کریں گے اور دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی قیادت کریں گے۔ارجنٹینا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے اور سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی میسی کو ٹورنامنٹ سے قبل انجری مسائل کا سامنا رہا ہے
جس کے باعث ان کی مکمل فٹنس پر سوالات موجود ہیں،تاہم آٹھ مرتبہ بیلن ڈی اور جیتنے والے میسی اب بھی ارجنٹینا کی سب سے بڑی امید سمجھے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 40 سالہ کروشین کپتان لوکا موڈرچ اپنے پانچویں ورلڈ کپ میں میدان میں اتریں گے
جو ان کا آخری عالمی کپ بھی ہو سکتا ہے،موڈرچ نے 2018 میں کروشیا کو ورلڈ کپ فائنل تک پہنچانے اور 2022 میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا،رپورٹ کے مطابق برازیل کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی نیمار 34 برس کی عمر میں ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں،ڈھائی سال بعد قومی ٹیم میں واپسی کرنے والے نیمار کو ماضی میں متعدد انجریز کا سامنا رہا ہے،اگرچہ وہ رونالڈو اور میسی سے کم عمر ہیں تاہم 2030کے ورلڈ کپ تک ان کی عمر 38 برس ہو جائے گی
اور ان کے کیریئر میں انجریز کو دیکھتے ہوئے 2026 کا ٹورنامنٹ ان کا آخری ورلڈ کپ سمجھا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کے تجربہ کار گول کیپر مینوئل نوئر 40 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ سے واپسی کے بعد ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں،نوئر اپنے کیریئر میں چار ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں اور 2014 میں جرمنی کی عالمی ٹائٹل جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا،2026کا ایونٹ ان کے لیے بھی عالمی کپ کا یقینی طور پر آخری ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افریقا کے عظیم ترین فٹبالرز میں شمار کیے جانے والے محمد صلاح نے لیورپول کے ساتھ شاندار کامیابیوں کے بعد عالمی شہرت حاصل کی اور کلب کے ساتھ 9 بڑے اعزازات اپنے نام کیے۔33سالہ صلاح اگرچہ اب اپنے کیریئر کے عروج پر نہیں رہے تاہم مصر کے شائقین اب بھی ان سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ان کا دوسرا اور شاید آخری ورلڈ کپ ہو۔رپورٹ کے مطابق 2014سے 2022 تک بیلجیم کی گولڈن جنریشن کے اہم رکن رہنے والے کیون ڈی بروئنے اب بھی کلب اور قومی ٹیم کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،رواں ماہ 35 برس کے ہونے والے ڈی بروئنے کے لیے 2026 کا ورلڈ کپ چوتھا اور غالبا آخری عالمی کپ ہوگا،بیلجیم کی کامیابی کی امیدیں بڑی حد تک ان کی کارکردگی سے وابستہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈز کے کپتان اور تجربہ کار دفاعی کھلاڑی ورجل وین ڈائک اگلے ماہ 35 برس کے ہو جائیں گے۔لیورپول کے ساتھ چیمپئنز لیگ اور پریمیئر لیگ جیتنے والے وین ڈائک اگرچہ اب اپنے بہترین دور سے آگے نکل چکے ہیں
تاہم وہ اب بھی ڈچ ٹیم کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں،2026 کا ورلڈ کپ ان کے کیریئر کا تیسرا اور ممکنہ طور پر آخری عالمی کپ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق سینیگال کے اسٹار ونگر سادیو مانے 2022 کے ورلڈ کپ سے قبل انجری کے باعث ایونٹ سے محروم ہو گئے تھے تاہم اب وہ میدان میں اترنے کے لیے مکمل فٹ ہیں،34 سالہ مانے اپنے سنہری دور سے آگے نکل چکے ہیں، تاہم وہ اب بھی سینیگال کی ٹیم کے لیے اہم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں،
یہ ان کا تیسرا اور غالبا آخری ورلڈ کپ ہوگا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ وہ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ حالیہ افریقی کپ آف نیشنز ان کا آخری ٹورنامنٹ تھا۔ رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کی طرح ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے جا رہے ہیں،
اگلے ماہ 41 برس کے ہونے والے اوچوا گزشتہ چند برسوں سے قومی ٹیم سے باہر تھے، تاہم اپنے ملک میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے انہیں دوبارہ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے،انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے اختتام پر وہ بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائر ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کا 11 جون سے آغاز ہوگا۔

