Site icon bnnwatch.com

مریخ پر زندگی کے مزید بنیادی اجزا دریافت

مریخ پر زندگی کے مزید بنیادی اجزا دریافت

امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک روور نے مریخ پر پہلی بار کیے گئے ایک منفرد کیمیائی تجربے کے ذریعے زندگی کے مزید بنیادی اجزا دریافت کر لئے ۔ فرانسیسی خبررساںادارے کے مطابق سائنس دانوں پر مشتمل ناسا کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیم نے واضح کیا کہ یہ نامیاتی سالمات ماضی میں زندگی کے حتمی ثبوت نہیں ہیں

کیونکہ یہ یا تو خود مریخ پر تشکیل پا سکتے تھے یا پھر شہابیوں کے ذریعے وہاں پہنچے ہوں گے۔تاہم یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ مریخ کی تاریخ سے جڑے یہ اہم سراغ تین ارب سال سے زیادہ عرصے تک اس کی سطح پر محفوظ رہے ہیں۔یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں مریخ کی سطح پر بڑی جھیلیں اور دریا موجود تھے جن میں مائع پانی تھا، جو زندگی کے لیے ایک بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔ناسا کا کریوسٹی روور 2012 میں مریخ کے ایک قدیم جھیل نما مقام گیل کریٹر میں اترا تھا

اور تب سے ممکنہ ماضی کی زندگی کے آثار تلاش کر رہا ہے۔گاڑی کے سائز کے اس روور میں ٹی ایم اے ایچ نامی کیمیکل کی دو نالیاں موجود تھیں، جو نامیاتی مادے کو توڑ کر اس کی ساخت معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس مشن سے وابستہ ماہرِ حیاتیات ایمی ولیمز نے بتایا کہ یہ تجربہ کسی دوسرے سیارے پر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔’انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم پر دبا تھا کیونکہ ان کے پاس صرف دو مواقع تھے کہ اسے درست طریقے سے انجام دیا جائے۔ یہ تحقیق ایک نئے مطالعے میں پیش کی گئی ہے۔ 2020 میں کیے گئے

اس تجربے میں 20 سے زائد نامیاتی سالمات دریافت ہوئے، جن میں کئی ایسے بھی شامل ہیں جن کی مریخ پر پہلے کبھی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ان میں بینزوتھیوفین نامی سالمہ بھی شامل ہے، جو شہابیوں اور سیارچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ولیمز کے مطابق، ‘جو مواد شہابیوں کے ذریعے مریخ پر گرا، وہی زمین پر بھی آیا تھا، اور غالبا اسی نے ہمارے سیارے پر زندگی کے بنیادی اجزا فراہم کیے۔’ایک اور سالمہ جس میں نائٹروجن شامل ہے

اے آئی کے تخلیق کردہ روبوٹس نے مرنے سے انکارکردیا

 

‘ڈی این اے کی تشکیل کے ابتدائی مراحل کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔’انہوں نے کہا، ‘ہم مریخ پر زندگی کے بنیادی اجزا یعنی قبل از حیاتی کیمیائی عمل کو ان چٹانوں میں اربوں سال سے محفوظ حالت میں دیکھ رہے ہیں۔اس کے باوجود یہ دریافت اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتی کہ مریخ پر کبھی زندگی، حتی کہ خردبینی سطح پر بھی، موجود تھی۔ولیمز کے مطابق اس غیر معمولی دعوے کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مریخ کی چٹانیں زمین پر لا کر ان کا تفصیلی تجربہ کیا جائے۔

ناسا کا پرسیویرنس روور پہلے ہی اس مقصد کے لیے چٹانوں کے نمونے جمع کر چکا ہے، جسے مارس سیمپل ریٹرن مشن کا حصہ بنایا گیا تھا۔تاہم یہ مشن ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں جنوری میں امریکی کانگریس کے ووٹ کے بعد مثر طور پر منسوخ کر دیا گیا۔جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق مستقبل کے مشنز اب بھی کیوریاسٹی کی اس کامیابی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ ٹی ایم اے ایچ کیمیکل کا استعمال دوسرے سیاروں پر بھی مثر ثابت ہوا ہے۔یورپی سپیس ایجنسی کا روزالینڈ فرینکلین روور، جس میں زیادہ گہرائی تک کھدائی کرنے کی صلاحیت ہے

اسی کیمیکل کو مریخ پر لے جائے گا۔کئی برسوں کی تاخیر کے بعد، ناسا نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ یہ روور اب 2028 کے آخر میں مریخ کے لیے روانہ کیا جائے گا۔یہی کیمیکل ڈریگن فلائی مشن میں بھی شامل ہوگا، جس کو 2028 میں زحل کے چاند ٹائٹن کی کھوج کے لیے روانہ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

 

میکسیکومیں کھدائی کے دوران قدیم قربان گاہ دریافت کرلی گئی
Exit mobile version