پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے چیئرمین محمد نعیم بٹ نے ایک تفصیلی بیان میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی توجہ صوبے میں گندم کے بڑھتے ہوئے بحران کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت گندم کی شدید قلت کا شکار ہے، جس کے اثرات براہ راست عوام تک منتقل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی عدم دستیابی کے باعث مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی مسلسل کم ہو رہی ہے جس کے باعث نہ صرف عام آدمی کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ آٹے کی قیمتوں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک گندم کی کمی والا صوبہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر صوبوں، خصوصا پنجاب، پر انحصار کرتا ہے۔ اس وقت پنجاب میں نئی فصل کی آمد کے باعث گندم وافر مقدار میں دستیاب ہے اور قیمتیں بھی کم سطح پر ہیں
جو کہ خیبر پختونخوا کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ سستی گندم حاصل کر کے اپنے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پنجاب کی جانب سے مختلف مقامات پر قائم چیک پوسٹوں کے ذریعے گندم کی ترسیل میں غیر ضروری اور غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔چیئرمین نے بتایا کہ خیبر پختونخوا آنے والے گندم بردار ٹرکوں کو”مانیٹرنگ”کے نام پر جگہ جگہ روکا جاتا ہے، جہاں نہ صرف تاخیر کی جاتی ہے بلکہ مبینہ طور پر بھتہ بھی وصول کیا جاتا ہے۔
اگر ٹرانسپورٹرز بھتہ دینے سے انکار کریں تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گاڑیاں ضبط کر لی جاتی ہیں، جس سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں آئین پاکستان کے آرٹیکل 151 کے بھی سراسر خلاف ہیں، جو بین الصوبائی تجارت اور اشیا کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد بار ان پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے یقین دہانیاں کرائی گئیں اور پنجاب حکومت کو بھی واضح ہدایات دی گئیں، اس کے باوجود یہ رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے باعث محکمہ خوراک خیبر پختونخوا بھی اپنے اسٹریٹیجک ذخائر کو پورا کرنے سے قاصر ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے اور مستقبل میں بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال سراسر زیادتی کے مترادف ہے، جبکہ ان غیر قانونی سرگرمیوں اور بھتہ خوری کے پس منظر میں نہ صرف ایک بااثر متوسط طبقہ بلکہ بعض سرکاری اہلکاروں اور بیوروکریسی کی مبینہ شمولیت بھی سامنے آ رہی ہے، جو معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ان رکاوٹوں کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹے کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔محمد نعیم بٹ نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب کی صوبائی حکومت سے مثر رابطہ کر کے ان غیر آئینی اور غیر قانونی چیک پوسٹوں کا فوری خاتمہ یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے تاکہ پنجاب میں دستیاب سستی اور وافر گندم کی بروقت خریداری اور ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بروقت اور مثر حکومتی اقدامات کے ذریعے نہ صرف آٹے کی قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو فوری ریلیف بھی فراہم کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جائے گا۔
مزید پڑھیں
