خیبرپختونخوا میں ڈینگی کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 51 مشتبہ ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق رواں سال صوبے بھر میں اب تک 257مشتبہ جبکہ 26تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے مزید 4کیسز کی تصدیق ہوئی
تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں سب سے زیادہ 10کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دیگر اضلاع بھی اس وائرس کی لپیٹ میں آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بنوں اور کوہاٹ میں بھی ڈینگی کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کیلئے صوبے بھر میں 3 لاکھ سے زائد پانی کے کنٹینرز کی جانچ کی جاچکی ہے جبکہ ہزاروں مقامات پر سرویلنس کا عمل جاری ہے۔ تاہم نجی اسپتالوں سے مکمل ڈیٹا نہ ملنے کے باعث حکام کو صورتحال کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور مچھروں سے بچا کیلئے مناسب اقدامات کریں تاکہ اس بیماری کے پھیلا کو روکا جاسکے۔
