خیبر پختونخوا میں شکار پر پابندی عائد، نئے قواعد جاری
خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیمز، جھیلوں، تالابوں اور بیراجوں میں شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ 31 مارچ تک ممنوع مقامات پر شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق صوبے کے 57 ڈیمز، جھیلوں اور دریاؤں کے علاقوں کو شکار کیلئے بند کر دیا گیا ہے، شکار کی اجازت صرف مخصوص مقامات پر ہو گی۔
اعلامیہ کے مطابق ایک شکاری کو دن میں صرف 5 آبی پرندوں کے شکار کی اجازت ہو گی، بطخ کے شکار کیلئے شکاری کتے کی لائسنس فیس 1500 روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے۔
خصوصی ڈک ہنٹنگ بندوق کی فیس 500 روپے یومیہ مقرر کی گئی ہے، سورج نکلنے سے قبل اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر پابندی ہو گی، شکار کے دوران الیکٹرانک آلات اور کال برڈز کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہو گی۔

