Skip to main contentSkip to footer

شام کی مقبوضہ پہاڑیوں میں غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کی منظوری

شام کی مقبوضہ گولان پہاڑی

اسرائیل نے شام کی مقبوضہ گولان پہاڑیوں پر غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے 5 سالہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیل نے شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے لیے تقریبا 334 ملین ڈالر مالیت کے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی ہے۔

یہ منصوبہ 2026سے 2030کے سالوں کا احاطہ کرتا ہے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے جبکہ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی آبادی میں اضافے کو فروغ دینے کے لیے تقریبا 1ارب شیکل (334 ملین ڈالر)مختص کیے گئے ہیں۔اسرائیلی حکام نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کاتزرین کی بستی کو “گولان کے پہلے شہر” میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدام اس ہفتے کے شروع میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور مقامی حکام کے درمیان ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد کیا گیا۔

میٹنگ میں کتزرین لوکل کونسل کے سربراہ یہودا دعا اور گولان کی علاقائی کونسل کے سربراہ اوری کیلنر شامل تھے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ منصوبہ ہے کہ دہائی کے آخر تک 3,000 نئے اسرائیلی خاندانوں کو کاتزرین اور گولان کی پہاڑیوں میں لایا جائے۔

 

امریکی جنگوں میں بھاری مالی و جانی نقصانات، ایران جنگ سب سے مہنگی قرار

 
Next Post
امریکا سے 6500 ٹن گولہ بارود، فوجی سازو سامان اسرائیل پہنچ گیا
Previous Post
پاکستان کی سمندری حدود کا دفاع ناقابل تسخیر ، پاک بحریہ میں پہلی ہنگور کلاس آبدوز شامل