خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا
برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو بھی ہیک کیا۔رپورٹ میں آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانیکی اسرائیلی انٹیلی جنس مہم کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے منصوبے کے تحت تہران کے ٹریفک کیمرے ہیک کیے گئے
اور کئی سالوں تک ان کی ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل ہوتی رہیں۔رپورٹ کے مطابق پاستور اسٹریٹ پر محافظوں اور ڈرائیوروں کی نقل و حرکت مسلسل نگرانی میں رہی، مخصوص کیمرے سیکمپانڈ کے اندرونی معمولات اور پارکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی۔
الگورتھمز کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کی طرز زندگی، ان کے معمولات، گاڑی کھڑی کرنے کی جگہیں اور کام کے راستے معلوم کییگئے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور سی آئی اے کو خامنہ ای کی میٹنگ کے وقت اور شرکا کی پیشگی اطلاع تھی۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ حملے کے وقت موبائل ٹاورز جزوی طور پر غیر فعال ہوگئے جس کے باعث حفاظتی عملہ ممکنہ وارننگ سے محروم رہا۔

