Skip to main contentSkip to footer

امریکا سے قطر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کر رہے ہیں، ایران

امریکا سے قطر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کر رہے ہیں، ایران

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی تجاویز پر تہران کی جانب سے قطر کی ثالثی میں سفارتی مشاورت جاری ہے لیکن امریکی نمائندوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر غیررسمی گفتگو میں کہا کہ قطری وفد کے حالیہ دورہ تہران کے بعد ایران کے سینئر سفارت کار مذاکرات جاری رکھنے کے لیے قطر جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی وفد سے کوئی ملاقات نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی ملاقات طے ہوئی ہے

غزہ میں بمباری کے نتیجے میں یرغمالی بھی ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج کا اعتراف

ایران اس وقت ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کے 7 نکاتی منصوبہ ہے، جس پر تہران کی جانب سے قطر کی تجاویز پر اتفاق کیا گیا تھا کہ اگر ایران کی شرائط مان لی جاتی ہیں تو اس پر محض دو دن میں عمل درآمد کیا جائے گا۔عباس عراقچی نے کہا کہ قطری وفد نے دوحہ روانگی سے قبل تہران میں مشاورت کی ہے، جس کے بعد نائب وزیرخارجہ قطر روانہ ہوئے تاکہ مذکرات جاری رکھے جائیں اور اس حوالے سے آگاہ کریں گے جبکہ ایران کے نائب وزیرخارجہ کی دوحہ سے تہران واپسی جلد متوقع ہے۔مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں یا نہیں اس کا انحصار ان کئی سوالات کے جواب پر جو تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کی جانب سے سفارت کاری جاری رہے گی اور توقع ظاہر کی کہ دوسرے فریق بھی دیگر آپشنز پر اتفاق کے لیے سنجیدگی دکھائے گا، ہم اپنے طور پر کوششیں کر رہے ہیں اور امید ہے مخالف فریق بھی دیگر آپشنز کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیے گا

آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکر باردوی سرنگوں سے ٹکرا گئے، پاسداران انقلاب

لیکن ہم مکمل طور پر دوسرے آپشنز کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے فوجی کمانڈرز کو جاری کی گئیں ہدایات کے متعلق عباس عراقچی نے کہا کہ اس سے ہماری پوزیشن اور ارادے واضح ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایران کی مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور گزشتہ دو جنگوں کے دوران مضبوط تر ہوچکی ہیں کیونکہ تجربہ حاصل ہوچکا ہے اور ان تنازعات سے سیکھنے کو ملا ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ہم اپنے ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اسی طرح سفارت کاری کے لیے بدستور تیار ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازع کا حل واشنگٹن کے اگلے فیصلے پر منحصر ہے اور امریکا کو کون سا راستہ چننا ہے اس کا انحصار ان کی اپنی دانش پر ہے۔

 

ضرورت پڑی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ

اگلی پوسٹ
ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری
پچھلی پوسٹ
ضرورت پڑی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ