ایران نے روس کیساتھ جدید میزائلوں کا خفیہ معاہدہ کرلیا
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ہزاروں جدید ترین میزائل حاصل کرنے کیلیے روس کے ساتھ 589 ملین ڈالر کا ایک خفیہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کر لیا۔
دعویٰ فنانشل ٹائمز کی جانب سے کیا گیا۔ برطانوی اخبار نے بتایا کہ دسمبر میں روس میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ماسکو تین سال کے دوران 500 پورٹیبل Verba لانچ یونٹس اور 2500 9M336 میزائل ایران کو فراہم کرے گا۔
فنانشل ٹائمز نے یہ معلومات روس کی لیک ہونے والی دستاویزات اور اس معاملے سے باخبر کئی افراد سے حاصل کی، تاہم روئٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔
میزائلوں کی ترسیل تین مراحل میں ہوگی جو 2027 سے 2029 تک جاری رہے گی۔ معاہدہ روس کے سرکاری اسلحہ برآمد کنندہ روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارت دفاع و مسلح افواج کی لاجسٹکس کے ماسکو میں موجود نمائندے کے درمیان طے پایا۔
معاہدے کی دستاویز کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر ان سسٹمز کی درخواست گزشتہ جولائی میں کی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکی افواج نے ایران کے تین اہم ایٹمی مراکز پر حملے کیے تھے، یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب امریکا ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی مہم میں شامل ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں ایران کی اہم جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں تاہم اس وقت کے ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے محض چند ماہ پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔
ایرانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ تہران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات سے نکل چکا ہے اور اس کی صلاحیتیں پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔
حالیہ بیان میں ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کہ جاننا چاہتے ہیں ہم کیوں نہیں جھکتے؟ کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔
دوسری جانب دونوں ممالک میں پلنے والی غلط فہمیوں نے تیسری عالمی جنگ کا خطرے کو بھی چنگاری دکھانے کا کردار شروع کردیا ہے

