ایران اور روس کی پاک افغان کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش
ایران اور روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کر دی۔غیر ملکی خبر رساںادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مناسب ہے افغانستان اور پاکستان اختلافات کو بات چیت سے حل کریں، پاکستان افغانستان بات چیت میں ایران سہولت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماہِ مبارک رمضان ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کے فروغ کا مہینہ ہے، مناسب ہیکہ افغانستان اور پاکستان اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی اور مکالمے سے حل کریں۔دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوری طورپر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکیں اور دونوں ممالک اختلافات کو بات چیت سے حل کریں۔
روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا درخواست کی گئی تو پاکستان اور افغانستان کے لیے ثالثی پرغور کیا جاسکتا ہے۔روسی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرحد پار حملے بند کریں اور اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کریں
اور سفارتی راستہ اختیار کریں، روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان تحمل سے کام لیں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔روسی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اگر دونوں فریق درخواست کریں تو روس پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی فراہم کرنے پر غور کرے گا۔
