ایران جنگ کا 17واں روز،خیبر شکن، عماد اور قدر میزائلوں کا استعمال
ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت سترہویں روز میں داخل ہو گئی، تہران میں کئی مقامات پر دھماکے ہوئے،ایرانی شہر اراک میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید ہوگئے، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں آپریشن وعدہ صادق 4 کی 57 ویں لہر کے تحت اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل حملے کئے ہیں عراق میں امریکی سفارتخانے پر پھر سے بھرپور راکٹ و ڈرون حملے کیے گئے،
متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق منگل کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یکے بعد دیگرے کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے سعد آباد پیلس کمپلیس کے قریب سنے گئے تاہم دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں سابق شاہی محل کے قریبی علاقے سے آئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی 57 ویں لہر کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مختلف قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کو یا سید الساجدین علیہ السلام کے نام سے منسوب کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔
پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا ایرانی شہر اراک پر حملہ،ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید ہو گئے، شہدا میں تین دن کا نومولود بچہ اور ایک دو سال کی بچی بھی شامل ہیں۔حملہ گھر پر کیا گیا جس میں بچوں کی والدہ اور دادی بھی جان سے گئیں، 28 فروری سے جاری حملوں میں اب تک ایران میں شہادتیں 1500 سے تجاوز کر گئیں، 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ لبنان میں 900 کے قریب شہری شہید ہو چکے ہیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جبکہ تقریبا 200 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں میں 15 اسرائیلی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران خلیجی ممالک میں بھی نقصانات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں متحدہ عرب امارات میں 7 افراد جاں بحق اور 145 زخمی ہوئے۔مزید اطلاعات کے مطابق کویت میں 6، عمان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں تباہی مچادی، متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تل ابیب میں کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں،
درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔بیت شمیش پر بھی میزائل داغے گئے، بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ، کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھے ، اس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔اسرائیل میں ہلاک فوجیوں اور شہریوں کی تعداد پندرہ ہوگئی، جنگ کے آغاز سے اب تک تین ہزار تین سو پچاس فوجی اور شہری زخمی ہونے کی تصدیق کر دی گئی، ہلاکتوں کے معاملے پر اسرائیلی حکام خاموش ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کے ٹکڑے مقبوضہ بیت المقدس قدیم شہر کے کئی مقدس مذہبی مقامات کے قریب آ گرے۔
پولیس کے مطابق میزائلوں کے ملبے کے ٹکڑے مسجدِ اقصی، چرچ آف دی ہولی سیپلکر اور یہودی کوارٹر کے اطراف میں گرے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی بڑی تعداد کو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں روک لیا۔حکام کا کہنا ہے کہ جدید دفاعی نظام نے کسی بڑے سانحے کو تو روک لیا، تاہم میزائل اور انہیں تباہ کرنے والے انٹرسیپٹرز کے بڑے بڑے ٹکڑے مختلف حساس مقامات سے برآمد ہوئے ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ ہوا ہے۔ میری ٹائم ایجنسی کے مطابق الفجیرہ بندرگاہ کے قریب ٹینکر پرپروجیکٹائل گر گیا،حملے کے وقت آئل ٹینکر بحیرہ عمان میں موجود تھا،حملے میں ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،اب تک خلیج فارس میں 20 آئل ٹینکرز حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات پر 1900 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یو اے ای نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا۔اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نیکہا کہ ملک کی فضائی حدود کو غیر معمولی احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پربند کیا گیا ہے۔اس سے قبل اماراتی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون خطرات کے جواب میں اقدامات کر رہا ہے۔دوسری جانب قطرمیں امریکی تنصیبات پرمیزائل اورڈرون حملہ کیا گیا،قطری فورسز نے متعدد میزائل اور ڈرونزمارگرائے،میزائل کا ملبہ گرنے سے انڈسٹریل زون میں آگ بھڑک اٹھی،واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بیان کے مطابق ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ اس حملے میں ذوالفقار اور قیام درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔تاحال ان حملوں کے نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی فوری ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔
ادھر عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر پھر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز نے سفارتخانے کے قریب 5 ڈرون مار گرائے،یہ امریکی سفارتخانے پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا،بغداد میں زور دار دھماکا بھی سنا گیا۔سفارتخانے نے تقریبا چھ گھنٹے قبل عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک ملیشیا بار بار بغداد کے مرکزی انٹرنیشنل زون پر حملے کر رہی ہیں۔بغداد امریکی افواج اور ایرانی حامی گروہ آمنے سامنے آ گئے،
عراقی علاقے جدیریہ میں ایرانی حامی گروہ کے زیر استعمال ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حملے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے، عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ادھر ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجدالنصاری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ایران کو فوری طور پر حملے روک دینے چاہئیں،قطر نے خود کو ایران کی جنگ سے الگ رکھا ہوا ہے،اگر حملے نہ رکے جو قطر جواب دینے کا حق رکھتا ہے،
اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوئی کوشش نہیں ہورہی،تمام فریقوں کو مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اماراتی وزارت دفاع نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کو 6 میزائل اور 21 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا،جنگ کے آغاز سے اب تک 304بیلسٹک میزائل روک چکے،17روز میں 15کروز میزائل اور 1627 ڈرون حملے ناکام بنائے،حملوں میں دوفوجیوں سمیت سات شہری ہلاک اور 145زخمی ہوچکے ہیں۔
دریں اثنا جنوبی بیروت میں اسرائیل نے شدید فضائی حملے کیے، اسرائیلی حملوں کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوئے، کئی افراد شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اسرائیل کی زمینی کارروائی شروع ہو گئی، حزب اللہ کی جانب سے شدید مزاحمت کی جا رہی ہے۔
