ایران کے پاسداران انقلاب نے وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88ویں لہر میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعوی کیا ہے۔
ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ الخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں، اسی علاقے میں امریکا کا ایویکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعوی کیا ہے،
متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی کشتی کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیا جو کہ فوجی اڈے سے باہر جا رہی تھی،۔بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے، وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اب امریکا کی اعلی ترین 18 ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے کیونکہ ان ٹیک کمپنیز کی آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سے ایران میں قتل مہم کے اہداف کا تعین ہوا تھا۔اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز میگن ڈیوڈ ایڈوم کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی اطلاعات کے بعد اس کی ٹیموں کو متعدد علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے تھوڑا پہلے کہا تھا کہ اس نے ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کا پتہ لگایا ہے۔ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں بنی بریک میں ایک 11 سالہ لڑکی سمیت تین افراد کو طبی امداد دی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 11 سالہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں منہاد بیس کے قریب خفیہ امریکی اڈے کو ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے،
خفیہ اڈے میں کم ازکم 200 امریکی فوجی و افسران موجود تھے۔دوسری جانب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ایران کے مبارکہ سٹیل پلانٹ کو ہفتے میں دوسری بار نشانہ بنایا گیا۔ڈی جی نرسنگ سسٹم آرگنائزیشن کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10 نرسیں شہید ہوئی ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان نرسوں کو ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے کئی ارکان زخمی بھی ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے گزشتہ 30 دنوں کے دوران خلیجی ممالک پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جن کی مجموعی تعداد 5 ہزار 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان حملوں میں بیلسٹک میزائلز، ڈرونز اور بعض مقامات پر جنگی طیارے بھی استعمال کیے گئے۔رپورٹس کے مطابق سعودی عربیہ کے دفاعی نظام نے گزشتہ ایک ماہ میں ایران کی جانب سے داغے گئے 57 میزائلوں اور 1006 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے بڑے جانی و مالی نقصان کو روکا گیا۔
اسی دوران کویت بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنا، جہاں 309 بیلسٹک میزائلوں اور 616 ڈرونز سے حملے کیے گئے۔ قطر پر بھی ایران نے 206 میزائل، 90 ڈرونز اور 2 جنگی طیاروں کے ذریعے حملے کیے۔بحرین کے حکام کے مطابق انہوں نے ایک ماہ کے دوران ایران کے 174 میزائل اور 391 ڈرون مار گرائے۔ اسی طرح امارات پر 413 میزائلوں اور 1914 ڈرونز سے حملے کیے گئے، جنہیں دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنایا۔
عرب میڈیا کے مطابق عمان بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہ رہ سکا، جہاں ایران کی جانب سے 19 ڈرون حملے کیے گئے۔ ادھر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ فضائی برتری کے بعد ایران پر بی 52 بمبار طیاروں کی کی پروازیں شروع کر دیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر اب تک 11 ہزار حملے کیے ہیں، میزائل، ڈرون اور نیوی کو سپلائی دینے والی لاجسٹکس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
علاوہ ازیں ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں پر امریکا اور اسرائیل کی بمباری کے باوجود عوام کی جانب سے حکومت کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔گزشتہ شب ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی عام شہریوں کی طرح مظاہرے میں شرکت کی، صدر مسعود پزشکیان کو دیکھ کر خواتین اور مردوں نے انقلاب ایران کے حق میں نعرے لگائے۔اس کے علاوہ عوام نے صدر کو گلدستہ پیش کیا جبکہ ولی عصر چوک پرایرانی مظاہرین نے پاکستانی عوام کا بھی شکریہ ادا کیا
اور اس دوران مظاہرین نے اردو میں تحریر پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔
