سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے صوبائی حکومت سے صو بہ میں کا رو با ر و تجا رت کی بہتر ی و تر قی کیلئے 10 سالہ طویل صنعتی پالیسی مرتب کر نے سمیت خصوصی مراعات فر اہم کر نے کا مطا لبہ کیا ہے ۔ سر حد چیمبر کی قیادت نے خیبر پختو نخوا حکو مت سے تاجر برادری وفا قی و صو با ئی کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کر دا ر ادا کر نے اور صو با ئی محکموں کے مختلف بورڈز میں متعلقہ کاروباری افراد کی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔ سر حد چیمبر نے خیبرپختونخوا میں کاروباری اور صنعتی ترقی میں کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اور کے پی ایزمک کے فعال کردار پر بھی زور دیا۔
یہ تجاو یز گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف نے چیمبر ہاؤس میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں صوبائی وزراء کے وفد کے دورہ کے موقع پر ممبر ان سے خطاب کرتے ہو ئے پیش کیں۔
وفد میں صوبائی وز ا رء مینا خان آفریدی، فیصل خان ترکئی، عا قب اللہ خان اور سابق صوبائی وزیر شوکت علی یوسفزئی اور سابق سٹی ناظم زاہد ندیم اور دیگر شامل تھے۔
اس موقع پرسر حد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد ندیم، نائب صدر صابر احمد بنگش، بزنس مین فورم کے لیڈر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور، چیمبر کے سابق صدور حاجی محمد افضل، ملک نیاز احمد، حسنین خورشید، فیض محمد فیضی اورفضل مقیم خان اور انڈسٹر یلسٹ ایسو سی ایشن پشاور کے صدر ایوب زکوڑی، سر حد چیمبر ایگزیکٹو کمیٹی کے ا ر اکین عباس فواد عظیم، شمس الرحیم، سیف اللہ خان، آفتاب اقبال اور عدنان ناصر،و و یمن چیمبر پشاور کی صدر قرةالعین، سینئر نا ئب صدر زارا امتیاز اورنا ئب صدر زرین اختر، سہیل جاوید، تاجر انصاف کے صدر شاہد خان، اور تاجروں اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس موقع پر سر حد چیمبر کے سابق صد ر اور سینئر ممبر سینیٹر محسن عزیز نے بھی ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے خیالات اور تجاویز سے پیش کیں جبکہ سلک روڈ انٹرپرائزز کے ڈائریکٹر اور سلک روٹ فیسٹیول کے گلوبل کوآرڈینیٹر یو کے ایم ایس صدف خالد خان نے بھی لندن سے ویڈیو لنک کے زر یعے میٹنگ میں شرکت کی
اورخیبر پختو نخوا کے تاجروں کو اسلام آباد میں ہو نے و الے سلک فیسٹیول 2026 میں شرکت کی دعوت دی۔ سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے اپنے ابتد ائی کلمات میں کہا ہے کہ چیمبر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ چاہتے ہیں۔ جنید الطاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختو نخوا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کوفر وغ دینے وسیع امکانات مو جو د ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا سمند ر سے دور ی کی وجہ سے یہا ں کے تا جرو ں و کار وبا ری طبقہ کو بہت سے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چیمبر نے صوبائی اسمبلی میں خیبر پختو نخوا میں معا شی تر قی کے حوا لے ایک عظیم الشان مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا ا ر ادہ رکھا ہے۔ انہوںکا کہناتھا خیبر پختو نخوا کے تاجروں کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بعض پالیسیوں اور سرحدوں کی طویل بندش کی وجہ سے بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، انہوں نے تجارتی راستوں کو تجارتی برادری کیلئے لائف لائن قرار دیا۔ صدر جنید الطاف نے تاجر برادری کو درپیش متعدد مسائل پر روشنی ڈالی اور صوبائی وزراء کے سامنے ٹھوس تجاویز پیش کیں
اور صو با ئی حکومت پر زور دیا کہ وہ خیبر پختو نخوا کی معاشی ترقی کیلئے مل کر کام کرے اور ان تمام مسائل کو حل کرے جو صوبے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر کر رہے ہیں۔ سا بق اسپیکر قو می ا سمبلی اسد قیصر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیمبر کی قیادت کو صوبائی اور مرکزی حکومت کے ساتھ مسائل اٹھانے کی یقین دہانی کرائی اور وعدہ کیا کہ وہ فوری طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختو نخوا سہیل آفریدی سے سر حد چیمبر کے وفد کے ساتھ ملاقات کر و ائے گئے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا کی تاجر برادری کا ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔
انہوں نے کاروبار اور تجارتی ترقی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختو نخوا نے گزشتہ چار دہائیوں سے مشکلات کا سامنا کیا ہے اور اس کے عوام اور تاجر برادری نے بے مثال قربانیاں دی ہیں
اس لیے انہیں ہر سطح پر سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے سابق فاٹا کے علاقے پر ٹیکس عائد کرنے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختو نخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں کاروبار اور صنعتوں کی ترقی پہلے ہی سست روی کا شکا ر اور زیا دہ تر صنعتیں بند ہو چکی ہیں تو پھر انضمام شدہ اضلاع پر ٹیکس لگانا مکمل طور پر غیر منطقی ہے۔ہم ایک برابری کا میدان اور مساوی مواقع اور کاروبار اور صنعتی ترقی چاہتے ہیں۔ ہم پالیسیوں کا شکار ہیں۔
چین مئی کے دوران پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں سرفہرست
انہوں نے ڈرائی پورٹ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے فعال اقدامات پر زور دیا۔ اسد قیصر نے پاک افغان تنازعہ کے خاتمے اور افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بحال کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔انہوں نے 19 جولائی کوبا ر ڈز بند ش اور آئینی حقوق پر گرینڈ جرگہ کے انعقاد کا اعلان کیا۔
قبل ازیں صوبائی وزار ء مینا خان ا فر یدی اور فیصل خان تراکئی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور سر حد چیمبر کی قیادت کو تاجر برادری کو درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزراء نے وعدہ کیا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ سہیل آفریدی سے ایس سی سی آئی کے وفد کی فوری ملاقات کریں گے۔
انہوں نے ایک مشترکہ ورکنگ کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ مسائل کو اجاگر کیا جا سکے اور صوبائی اور وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔
یورپ اور چین کی منڈیوں تک رسائی، پاکستانی مچھلی برآمدات میں نئی جان پڑ گئی
