Skip to main contentSkip to footer

ہزارہ موٹروے پر المناک ٹریفک حادثہ، 8 افراد جاں بحق

ہزارہ موٹروے پر المناک ٹریفک حادثہ، 8 افراد جاں بحق

ایبٹ آباد: حویلیاں انٹرچینج کے قریب ہزارہ موٹروے پر مسافر بس اور ڈمپر کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں، جبکہ چار زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو اور ہسپتال ذرائع کے مطابق حادثہ حویلیاں انٹرچینج کے قریب اس وقت پیش آیا جب گلگت سے راولپنڈی جانے والی مسافر بس تیز رفتاری کے باعث ٹائر پھٹنے کے بعد بے قابو ہو کر ڈمپر سے جا ٹکرائی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ بس میں سوار متعدد افراد زخمی ہوگئے، جبکہ آٹھ افراد موقع پر ہی یا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طور پر ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 30 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں 5 بچے، 6 خواتین اور 19 مرد شامل ہیں۔ زخمیوں میں متعدد افراد کا تعلق گلگت بلتستان جبکہ دیگر کا تعلق کراچی، گوجر خان اور میانوالی سمیت مختلف علاقوں سے ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں فوری طور پر ایمرجنسی آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا، جہاں ان کے آپریشن جاری ہیں۔ دیگر زخمیوں کو بھی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ ہار گئے، مگر صدر برقرار رہیں گے، یاہو کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن گیا!

حادثے میں زخمی ہونے والوں میں زین ولد نصر اللہ، معاذ ولد رحیم اللہ، جان عالم ولد عالم میر، شرافت ولد شمس الرحمان، عمر فاروق ولد شاہ حسین، گوہر ولد شعین، باسط ولد محمد حسین، سجاع عالم ولد سلام میر، تصور حسین ولد علی اصغر، ثناء اللہ ملک ولد محمد ایوب، جان محمد ولد عبدالصبور، نوید ولد اشرف، فدا حسین ولد علی مدد، رشید عالم، اکبر ولد شکور، ذوالقرنین ولد حیدر، کامران ولد فرمان اللہ، نذر، شاہزیب ولد میر ایاز، فاطمہ بی بی، ایمان، فاخرہ جان، شہزادی، حمیرہ کرن، تنسیم، جنت، شفاء، ابوبکر ولد شجاع عالم، محمد عباس ولد محمد امین اور اقتدار ولد محمد امین شامل ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ تشویشناک حالت میں زیر علاج افراد کے آپریشن جاری ہیں۔ حادثے کے بعد ہزارہ موٹروے پر امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ واقعے میں آٹھ قیمتی جانوں کے ضیاع پر علاقے میں افسوس کی فضا ہے۔

 

پاکستان سے اب تک 28لاکھ ،پنجاب سے ڈیڑھ لاکھ افغان باشندے واپس

اگلی پوسٹ
حیات آباد میں نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد قتل
پچھلی پوسٹ
حکومت کا سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ