خلیجی ممالک کو 1990کے بعد بدترین معاشی دھچکا لگنے کا خدشہ
ایران جنگ سے خلیجی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔بلومبرگ کے مطابق خلیجی ممالک کو1990کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، آبنائیہرمزکی بندش سے قطر اور کویت کی معیشت زیادہ متاثر ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی گزر گار2ماہ بند رہی توجی ڈی پی میں 14 فیصد کمی کا خدشہ ہے،
یواے ای اور سعودیہ کی جی ڈی پی میں 3 سے 5 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔دوسری جانب سعودی ولی عہد اور یواے ای صدر کا رابطہ ہوا، دونوں رہنماں نے ایرانی حملے خطے کے سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا، سعودی ولی عہد اور یواے ای صدر نے سنگین نتائج کی تنبیہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے دفاع کیلئے ضروری اقدامات کے عزم کا اظہار کیا۔قبل ازیں فرانسیسی صدر نے ایرانی ہم منصب مسعودپزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،
فرانس نے ایران سے پڑوسی ممالک پر حملے فوری طوربند کرنے کا مطالبہ کیا، فرانسیسی صدر نے کہا کہ لبنان اورعراق سمیت خطے کے ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں، جتنی جلدی ممکن ہو آبنائے ہرمزمیں جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے۔
