Site icon bnnwatch.com

سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، تولہ 52400 کا ہوگیا

Gold Price Increase in Pakistan

سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، تولہ 52400 کا ہوگیا

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت 52 ہزار 400 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مسلسل اضافے نے نہ صرف خریداروں بلکہ سرمایہ کاروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر میں عدم استحکام اور مقامی معاشی دباؤ اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق جمعہ کے روز ملک بھر میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 1,200 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 52,400 روپے مقرر کی گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو بڑھ کر 44,930 روپے تک جا پہنچی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر پاکستانی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں حالیہ دنوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، اور بڑی معیشتوں میں شرح سود سے متعلق خدشات ہیں۔ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت کا دارومدار بڑی حد تک امریکی ڈالر کی قدر پر بھی ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھایا۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق جب روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء، بالخصوص سونا، مہنگا ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان میں سونے کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے۔

سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے نے زیورات کی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام خریدار زیورات کی خریداری سے گریز کر رہے ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے سونے کے زیورات کی طلب میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

لاہور کے ایک معروف جیولر کے مطابق،
“گزشتہ چند ماہ سے سونے کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہے۔ خریدار تذبذب کا شکار ہیں اور زیادہ تر لوگ خریداری مؤخر کر رہے ہیں، جس سے ہماری فروخت میں کمی آئی ہے۔”

دوسری جانب، سرمایہ کار طبقہ سونے کی قیمت میں اضافے کو سرمایہ کاری کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے اور کرنسی غیر مستحکم ہو تو سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے کئی سرمایہ کار سونے میں سرمایہ لگا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں بہتر منافع حاصل کیا جا سکے۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 1,650 روپے ہو گئی۔ اگرچہ چاندی کی قیمت میں اضافہ سونے کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس کا رجحان بھی اوپر کی جانب ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے پر دباؤ جاری رہا تو سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں استحکام آیا اور مقامی سطح پر معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے تو سونے کی قیمت میں کمی یا استحکام بھی ممکن ہے۔

ماہرین خریداروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ سونے کی خریداری سے قبل مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں۔ قلیل مدت میں خرید و فروخت کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عام صارفین کو بھی غیر ضروری خریداری سے گریز اور بجٹ کے مطابق فیصلے کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں حالیہ اضافہ ایک اہم معاشی پیش رفت ہے جو نہ صرف زیورات کی صنعت بلکہ عام صارفین اور سرمایہ کاروں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ عالمی اور مقامی عوامل کے امتزاج نے سونے کی قیمت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا مارکیٹ میں کسی حد تک استحکام آتا ہے۔

Exit mobile version