جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلا ئو کے بعد عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کی ہنگامی حالت قرار دے دیا ۔ ادارے کے مطابق اب تک اس خطرناک بیماری اور وبا ء سے 80 اموات منسوب کی جاچکی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خطرناک بیماری ہمسایہ ممالک تک مزید پھیل سکتی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ وبا بنڈی بوجیو وائرس کے باعث پھیلی ہے
تاہم فی الحال یہ عالمی وبا کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق جمہوریہ کانگو سے ملحقہ سرحدی ممالک کو اس وائرس کے باعث خطرناک بیماری کے پھیلاو کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے نے جاری بیان میں کہا کہ ہفتے تک جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری میں 80 مشتبہ اموات، 8 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز اور 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ یہ کیسز کم از کم تین ہیلتھ زونز، بونیا، روامپارا اور مونگبوالو میں سامنے آئے ہیں۔
ادھر مشرقی کانگو کے شہر گوما میں بھی ایک کیس کی تصدیق کی گئی ہے، جس کی اطلاع ایم 23 باغی گروپ کی جانب سے جاری بیان میں دی گئی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو میں موجود کم از کم 6 امریکی شہری ایبولا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں، جن میں سے 3 افراد کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔سی بی ایس نیوز نے بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک امریکی شہری میں اس خطرناک بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا بھی خدشہ ہے
تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز ان رپورٹس کی فوری تصدیق نہ کرسکا۔اسٹیٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت متاثرہ افراد کو کانگو سے نکالنے کی کوشش کررہی ہے اور ممکنہ طور پر انہیں جرمنی میں کسی فوجی اڈے پر منتقل کیا جاسکتا ہے۔امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن(سی ڈی سی) کے ایبولا رسپانس انسیڈنٹ مینیجر ستیش پلئی نے اتوار کو بریفنگ میں یہ بتانے سے گریز کیا کہ متاثرین میں امریکی شامل ہیں یا نہیں
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو فی الحال اس خطرناک بیماری سے کوئی خطرہ کم ہے۔سی ڈی سی حکام نے بتایا کہ ادارے نے اس وبا کے حوالے سے اپنا ایمرجنسی رسپانس سینٹر فعال کردیا ہے اور کانگو و یوگنڈا میں اپنے دفاتر کے لیے مزید عملہ بھیجنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔دوسری جانب جمہوریہ کانگو میں امریکی سفارت خانے نے ہیلتھ الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو یاد دہانی کرائی کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ایتوری صوبے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے۔
الرٹ میں کہا گیا کہ اس علاقے میں امریکی حکومت کی خطرناک بیماری کے حوالے سے ہنگامی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ سفارت خانے نے واضح الفاظ میں کہا، کسی بھی وجہ سے اس علاقے کا سفر نہ کریں۔ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کا یہ 17واں پھیلا ممکنہ طور پر رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بڑا ہوسکتا ہے، کیونکہ ابتدائی نمونوں میں مثبت کیسز کی شرح زیادہ ہے اور مشتبہ مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ ایبولا وائرس پہلی بار 1976 میں اسی ملک میں دریافت ہوا تھا۔ادارے کے مطابق موجودہ وبا غیر معمولی نوعیت کی ہے کیونکہ بنڈی بوجیو وائرس کے خلاف ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، جبکہ کانگو میں ماضی کی تقریبا تمام وبائیں زائر اسٹرین کے باعث پھیلی تھیں۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ کانگو اور یوگنڈا میں پھیلنے والی یہ وبا دوسرے ممالک کے لیے بھی صحتِ عامہ کا خطرہ بن چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر وائرس کے پھیلا کے بعض کیسز کی دستاویز بھی موجود ہے۔
ادارے نے مختلف ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قومی ڈیزاسٹر اور ایمرجنسی مینجمنٹ نظام فعال کریں، سرحدی نگرانی سخت بنائیں اور اہم شاہراہوں پر اسکریننگ کا عمل شروع کریں۔ تاکہ اس خطرناک بیماری کے اثرات سے نمٹا جاسکے
یہ بھی پڑھیں
