Site icon bnnwatch.com

سائنسدانوں نے دیو قامت پرندہ نما ڈائنوسار کا فوسل دریافت کر لیا

Giant dinosaur fossil discovered

سائنسدانوں نے دیو قامت پرندہ نما ڈائنوسار کا فوسل دریافت کر لیا

مغربی افریقا کے ملک نائجر کے صحرا میں سائنسدانوں نے ڈائنوسار کی ایک نامعلوم اور دیو قامت نوع دریافت کر لی ہے، جسے ایک صدی سے زائد عرصے میں اپنی نوعیت کی بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اس کا حجم خوفناک ٹائیرائنوسارس ریکس کے ہم پلہ تھا۔ دریافت ہونے والے ڈھانچے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائنوسار کی یہ نئی نوع تقریبا 40 فٹ لمبی ہے جس کے سر پر 20 انچ لمبی تلوار نما کلغی موجود تھی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا 9 کروڑ 50 لاکھ سال قبل یہ اسپئنوسار نامی ڈائنو سار افریقی براعظم میں گھوما کرتا تھا۔سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق تحقیقی ٹیم نے جن فوسلز کو دریافت کیا وہ اسپئنوسار میرابیلیس سے تعلق رکھتے ہیں، جسے یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرِ قدیم حیاتیات اور تحقیق کے سربراہ پال سیرینو نے جہنمی بگلا قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پال سیرینو کا کہنا ہے کہ کھوپڑی کی لمبائی، گردن کی جسامت اور پچھلی ٹانگوں کا تناسب دیکھیں تو یہ بالکل بگلے جیسی ساخت رکھتا ہے۔یہ ڈائنوسار اس دور میں زندہ تھا جب آج کا ویران صحرا، سرسبز جنگلات اور دریاوں سے ڈھکا ہوا تھا، اس سے قبل زیادہ تر اسپائنو سارس کے فوسلز شمالی افریقا کے ساحلی علاقوں کے قریب ملے تھے۔کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ مچھلی خور مخلوق مکمل طور پر آبی حیات رکھتی تھی اور گہرے پانیوں میں تیرتے ہوئے شکار کرتی تھی، تاہم اس بار فوسلز سمندر سے سیکڑوں میل دور اندرونِ ملک دریافت ہوئے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای داماد اور بہو سمیت شہید ہوگئے

Exit mobile version