Site icon bnnwatch.com

ہزاروں سال سے منجمد بھیڑیے کے پیٹ سے گینڈے کا گوشت برآمد

Frozen Wolf Discovery

ہزاروں سال سے منجمد بھیڑیے کے پیٹ سے گینڈے کا گوشت برآمد

سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا سے برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے بھیڑیے کے 2 بچے کچھ عرصے قبل دریافت کیے تھے اور اب ان سے متعلق حیران کن انکشافات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔

ان کے جسموں میں محفوظ ڈی این اے سے سب سے پہلے تو محققین نے ان کے پیٹ میں وولی رینو نامی نسل کے زمانہ قدیم کے گینڈے کے گوشت کا ٹکڑا دریافت کیا۔یہ ٹکڑا بھیڑیے کے ایک بچے کے پیٹ کے اندر محفوظ تھا۔گوشت اور کھال کا ڈی این اے سائبیریا کی برف کے نیچے 14 ہزار سال سے زائد عرصے تک محفوظ رہا

اور اس سے سائنسدان مکمل جینوم کا سیکونس تیار کرنے میں کامیاب رہے۔محققین نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ برفانی عہد کے کسی ایسے جانور کے مکمل جینیوم کو تیار کیا گیا

جو کسی اور جانور کے پیٹ کے اندر تھا۔جس گینڈے کے گوشت کے ٹکڑے کو دریافت کیا گیا، وہ محققین کے مطابق 14 ہزار 400 سال قبل مرا تھا، یعنی اس نسل کے معدوم ہونے سے چند سو برس قبل۔ماہرین عرصے سے بحث کر رہے ہیں کہ شکاریوں یا موسمیاتی تبدیلیوں، ان میں سے گینڈوں کی اس نسل کی معدومی کا باعث بننے والا عنصر کونسا ہے

۔اس نئی دریافت میں ڈی این اے سے عندیہ ملا کہ معدومی سے چند سو سال قبل یہ گینڈے صحت مند تھے، بس اچانک کچھ ایسا ہوا جو ان کے خاتمے کا باعث بن گیا۔بھیڑیوں کے ایک بچے کو 15 سال قبل کچھ شکاریوں نے سائبیریا میں دریافت کیا تھا

جبکہ 4 سال بعد دوسرے کو دریافت کیا گیا۔ان کی عمریں 9 ہفتوں کے قریب تھی اور ڈی این اے بھی کافی حد تک ملتا جلتا تھا، تو ممکنہ طور پر وہ رشتے دار تھے۔سائنسدانوں کے خیال میں وہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث برف میں دب کر مرگئے اور 14 ہزار تک برف میں منجمد رہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل Genome Biology and Evolution میں شائع ہوئے۔

بھارت میں ہاتھی دھماکہ خیز مواد کھا گیا

Exit mobile version