پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا کردار ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے۔ سیاسی، سماجی اورہنگامی حالات میں عوام تک درست، بروقت اور مستند معلومات پہنچانے میں صحافیوں اور میڈیا اداروں نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیاہے تاہم موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ سہل ہوچکی ہے وہیں غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈے اور فیک خبروں نے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج بھی لاکھڑا کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پلک جھپکتے جھوٹی خبر لاکھوں افراد تک پہنچا دیتی ہیں اور بعض اوقات ان غلط اور جھوٹی خبروں کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ بھی ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کے آگے بیان کر دے۔ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں یہی صورتحال عام دکھائی دیتی ہےجہاں غیر مصدقہ معلومات لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں جس کے باعث معاشرتی غلط فہمیاں اور انتشار پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی اہم مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی کے زیر اہتمام مختلف اشاعتی اور نشریاتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ورکشاپ مری کے خوبصورت سیاحتی مقام لوئر ٹوپہ میں منعقد ہوئی جہاں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور ڈیسک ایڈیٹرز نے شرکت کی۔
تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد میڈیا سے وابستہ افراد کو غلط معلومات، گمراہ کن مواد اور جعلی خبروں کی شناخت اور ان کے تدارک کیلئے مؤثر اورجدید تربیت اور مہارت فراہم کرنا تھا۔
ورکشاپ کے دوران مختلف موضوعات پر ماہر مقررین نے تفصیلی گفتگو کی اور شرکاء کو عملی تربیت فراہم کی۔ مقررین میں محترم رضا ہمد انی صاحب، شہزاد انورصاحب، سید عبدالاحد صاحب اور صلاح الدین صاحب شامل تھے جنہوں نےغلط معلومات، جعلی خبروں کی شناخت اور پہچان، ذمہ دار صحافت، ڈیجیٹل ذرائع کے محفوظ استعمال اور جدید میڈیا چیلنجز کے حوالے سے شرکاء کی بھرپور رہنمائی کی۔
مقررین نے مختلف عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے بتایا کہ کس طرح غیر مصدقہ اور غلط معلومات معاشرے میں انتشار پیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ایک ذمہ دار صحافی کس انداز میں خبر کی تصدیق کرکے عوام تک درست معلومات پہنچا نے میں اہم کرداراداکرسکتا ہے۔ ان ماہرین نےاے آئی ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پھیلنے والی گمراہ خبروں،تصاویر اور ویڈیوز کے خطرات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور شرکا کو ان سے بچائو کے مئوثر طریقے سمجھائے ۔
شرکاء نے مقررین کے تجربات اور رہنمائی کو نہایت مفید قراردیتے ہوئے تربیتی نشست کو اپنے پیشہ ورانہ سفر کے لیےانتہائی اہم قرار دیا۔
ورکشاپ کے آغاز میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ صرف ٹیلی وژن چینلز، اخبارات اور ریڈیو تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے سماجی رابطوں کا رپورٹر بن چکا ہے۔ فیس بک، ایکس، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز نے معلومات کی ترسیل کو انتہائی تیز کردیا ہے تاہم اسی رفتار کے باعث غیر مصدقہ معلومات بھی بغیر تصدیق کے پھیل جاتی ہیں اور مختلف عوامل کے حصول کیلئے ان غیرمصدقہ خبروں کے باعث شہریوں کومشکلات کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔
تربیتی ماہرین نے مختلف مثالوں کے ذریعے بتایا کہ کس طرح جعلی تصاویر، پرانی ویڈیوز اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے بیانات اور خبریں عوام کو گمراہ کرتی ہیں۔ بعض اوقات ایک جھوٹی خبر معاشرتی بے چینی، سیاسی کشیدگی حتیٰ کہ جانی نقصان کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ ورکشاپ میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ صحافیوں کو صرف خبر نشر کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خبر کی مکمل جانچ پڑتال، تصدیق اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔
دو روزہ ورکشاپ میں شرکاء کو مختلف عملی اور نظریاتی پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔ ان موضوعات میں غلط خبروں کی پہچان، گمراہ کن معلومات میں فرق، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تصدیقی ذرائع کے استعمال، تصاویر اور ویڈیوزکی مختلف ڈیجیٹل ٹولز سے تصدیق، مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور ڈیپ فیک کے خطرات، ذمہ دار انہ صحافت کے اصول، آن لائن نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور میڈیا میں اخلاقیات و احتساب شامل تھے۔
ورکشاپ میں مختلف اشاعتی اور نشریاتی اداروں سے تعلق رکھنے والےرپورٹرز اور ایڈیٹرز نے شرکت کی جن میں پشاور سے وقار احمد، ملک تنویر احمد، محمد سلیم کشمیری، عباداللہ،عدنان شاہد، عدنان خان، طلعت علی، علی مراد، ڈاکٹر فطرت بونیری، عامر جمیل، کراچی سے شیرین قاسم ،یاسر احمد، منور احمد خان، گل منیبہ، رباب شکیل، اسلام آباد سے نوید احمد، وقارحیدر، مدثر عزیز، ارنیب مہرین احسان، عروج منصب، مقصود منتظر، عنایت علی نیازی، محمد شفیع، علی رضا کاظمی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے نصرت گنڈاپورشامل تھے۔
تمام شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور میڈیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق نئی مہارتیں سیکھنے اور انہیں اپنانے کی کوشش کی۔
ماہرین نے شرکاء کو مختلف آن لائن ذرائع کے استعمال کی تربیت بھی دی جن کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت معلوم کرنے کے حوالے سے بتایاگیا۔ عملی مشقوں کے دوران شرکاء نے متعدد جعلی پوسٹس اور تصاویر کی جانچ کے طریقے سیکھے اور یہ سمجھا کہ کس طرح ایک ذمہ دار صحافی کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق کرتا ہے اور ایسا کرنا معاشرے، ادارے اور خود اس کی ذات کیلئے کتنا ضروری ہے۔
ورکشاپ کے دوران اس بات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی کہ آج کے دور میں صحافی کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ماضی میں صحافی صرف خبر جمع کرکے ادارے تک پہنچاتا تھامگر اب اسے غلط خبروں کی شناخت اور آن لائن رجحانات کو سمجھنے کی مہارت پر عبور ہونا بھی ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگر ذرائع ابلاغ خود غیر مصدقہ معلومات نشر یا شائع کریں تو عوام کا اعتماد شدید متاثر ہوتا ہے اس لیے ہر صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خبر کی اشاعت یا نشر کرنے سے قبل متعدد ذرائع سےاس کی تصدیق کرلے۔
ورکشاپ کو صرف لیکچرز تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ شرکاء کو مختلف گروپس میں تقسیم کرکے عملی سرگرمیوں میں بھی شامل کیا گیا۔ ہر گروپ کو مختلف خبریں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود پوسٹس دی گئیں جن کی حقیقت جانچنے کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی۔ شرکاء نے نہ صرف ان پوسٹس کا تجزیہ کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ ایک ذمہ دار صحافی ایسی صورتحال میں کس انداز سے رپورٹنگ کرے گا۔
شرکا نے ایک دوسرے سے تجربات شیئر کیے اور ذرائع ابلاغ کو درپیش جدید چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ ورکشاپ مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی اہم ذریعہ بنی۔
ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے صرف حکومت یا سماجی رابطوں کی ایپلی کیشنز پر انحصار کافی نہیں بلکہ صحافتی اداروں، صحافیوں اور عوام کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شیئر نہ کرنا، خبر کے اصل ماخذ کی جانچ پڑتال کرنا، تصاویر اور ویڈیوز کو چلانے سے قبل ان کے مقام اور تاریخ کی اچھے طریقے سے تصدیق کرنا، سنسنی خیز سرخیوں سے احتیاط کرنا اور مستند ذرائع پر اعتماکرنا د ایسے بنیادی اصول ہیں جو غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
اے آ ئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ایسی جعلی ویڈیوز اور آوازیں تیار کی جارہی ہیں جنہیں عام صارف آسانی سے پہچان نہیں سکتا۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاسی شخصیات، معروف افراد اور اداروں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا اور سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک مواد کی مکمل تصدیق کیے بغیر اسے نشر نہ کریں۔
ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ذرائع ابلاغ کا بنیادی مقصد عوام تک سچ اور حقائق پہنچانا ہے۔ اگر صحافی تحقیق، دیانتداری اور ذمہ داری کے اصولوں پر عمل کریں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اداروں میں واپس جاکر ذمہ دار انہ صحافت کو فروغ دیں گے اور غلط خبروں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں گے۔
ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی کی جانب سے اس نوعیت کی ورکشاپ کا انعقاد بلاشبہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ایسے تربیتی پروگرام میڈیا ورکرز کو نہ صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں بلکہ انہیں معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں اس طرح کی تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر غلط معلومات اور خبروں کے پھیلائو کو روکنا ہے تو صحافیوں اور صحافتی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تصدیقی اصولوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے اس تربیتی پروگرام کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی مزید ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ صحافیوں کو جدید میڈیا چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید تربیت اور مہارت مل سکے ۔
اختتامی تقریب میں مقررین نے کہا کہ ایک مضبوط، ذمہ دار اور باشعور میڈیا ہی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ سچائی، تحقیق اور ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہیں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال رہتا ہے بلکہ معاشرہ بھی مثبت سمت میں آگے بڑھتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی فراوانی ہےوہیں غلط خبریں اور معلومات ایک سنگین خطرہ بھی بن چکی ہیں۔ ایسے حالات میں رپورٹرز اورایڈیٹرز کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ ٹی ڈی ای اے کی جانب سے منعقدہ یہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ اس حوالے سے ایک اہم قدم ثابت ہوئی جس نے شرکاء کو جدید میڈیا چیلنجز، غلط خبروں کی شناخت اور انہیں روکنے کیلئے اپنی مہارت بروئے کار لانے اور ذمہ دار انہ صحافت کے اصولوں سے مؤثر انداز میں آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں
