وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے اینٹی کرپشن سرکل پشاور نے افغان شہریوں کیلئے جعلی پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے حصول میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کی۔ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور زون کی ہدایت اور ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اے سی سی پشاور کی نگرانی میں ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران ایسے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جو افغان شہریوں کو جعلی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے حصول میں سہولت فراہم کر رہا تھا۔
مصدقہ اطلاع پر عمل کرتے ہوئے ایک ریڈنگ ٹیم، جس میں انسپکٹر عرفان اللہ، انسپکٹر محمد عامر، ایس ایچ اوطلحہ زمان،اے ایس فہد اللہ،اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد الیاس، اسسٹنٹ سب انسپکٹر شیراز خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر طاہر محمود اور ہیڈ کانسٹیبل آصف شامل تھے، نے مقامی پولیس چوکی تاج آباد کے تعاون سے پشاور کے علاقے تاج آباد، گلی نمبر 10میں واقع ایک نجی ہاسٹل پر چھاپہ مارا۔کارروائی کے دوران متعدد افغان شہری مذکورہ مقام پر موجود پائے گئے۔
ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ متعدد افراد نے مبینہ طور پر جعلی شناخت کے ذریعے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs)اور پاسپورٹس حاصل کیے تھے، جنہیں بیرون ملک خصوصاً سعودی عرب روزگار کے حصول کیلئے استعمال کیا جانا مقصود تھا۔ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایجنٹس کو فی کس 25لاکھ سے 28لاکھ روپے تک کی بھاری رقوم ادا کیں، جنہوں نے انہیں جعلی شناختی اور سفری دستاویزات کے حصول میں سہولت فراہم کی۔کارروائی کے دوران پاکستانی شناختی کارڈز، پاسپورٹس، افغان شناختی دستاویزات، موبائل فونز اور دیگر قابلِ اعتراض مواد برآمد کر کے قبضہ میں لے لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں سرگرم ہے۔گرفتار شدگان نے بعض سہولت کاروں اور ایجنٹس کی نشاندہی کی ہے جو مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات کی تیاری اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے کے عمل میں ملوث ہیں۔
موجودہ شواہد کی بنیاد پراے سی سی، ایف آئی اے پشاور نے نامزد ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471، 34اور 109کے تحت، مع دفعہ 14غیر ملکی ایکٹ 1946مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گرفتار افرادایف آئی اے کی تحویل میں ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔تحقیقات کا دائرہ کار مزید سہولت کاروں، فائدہ اٹھانے والوں اور ممکنہ طور پر ملوث سرکاری اہلکاروں تک بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں بشمول نادرا اور پاسپورٹ دفاتر کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کے شناختی اور سفری دستاویزاتی نظام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور جعلی شناخت، دستاویزات میں جعلسازی، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
