Site icon bnnwatch.com

بجلی بلوں کے ذریعے ملکی قرضوں کی ادائیگی کا انکشاف

Electricity Bills Debt Recovery

بجلی بلوں کے ذریعے ملکی قرضوں کی ادائیگی کا انکشاف

پائڈ نامی پاکستانی ادارے نے ملک میں بجلی کے بلوں کے نام پر کھربوں روپے کے نقصان کی قیمت عوام سے وصول کیے جانے کی ہوشربا رپورٹ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بجلی کے نرخ میں کئی گنا اضافہ بجلی بنانے کی لاگت پر نہیں بلکہ محض قرضوں کی ادائیگی اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہے۔

پائڈ نامی ادارے کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں بجلی کا سرکلر ڈیٹ اب 26 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور اس پورے قرضے کی قیمت براہِ راست غریب صارفین سے وصول کی جا رہی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بجلی کا شعبہ اب محض ایک مالی بحران سے زیادہ سماجی و معاشی نا انصافی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پائڈ کی تحقیق کے مطابق قومی سطح پر بجلی کے اوسط ٹیرف میں تین گنا اضافہ ہوا، مگر اس ٹیرف کا 30 سے 35 فیصد حصہ بجلی بنانے کی لاگت نہیں بلکہ محض قرضوں کی ادائیگی اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہے۔

ملک میں غریب 40 فیصد گھرانوں کے بل میں غیر پیداواری اخراجات کا حصہ 60 فیصد تک ہے، جبکہ امیر کے بل میں یہی حصہ صرف 30 فیصد رہ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے نرخ اب ایک مالیاتی ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ سرکلر ڈیٹ ملک میں غربت کو مزید گہرا کر دے گا  تاہم اس کے باوجود عوام جانے انجانے میں حکومتی قرضوں کی ادائیگی بلوں کے ذریعے کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں سولر انرجی کے فروغ کے باوجود نہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوسکا نہ زیادہ بلوں کا۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان ریلیف پیکج جاری، اس بار عوام کو کتنے پیسے ملیں گے؟

Exit mobile version