ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں فتنہ الخوارج کے ڈرون حملے
خیبر پختونخوا کے اضلاع ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں افغان طالبان کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے فتنہ الخوارج کی جانب سے ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ان علاقوں میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملوں کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے جدید اینٹی ڈرون ڈیفنس سسٹم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا۔ ان واقعات میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان ناکام حملوں نے ایک بار پھر افغان طالبان کی موجودہ حکومت اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے بتایا کہ اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔
کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔انھوں نے مزید لکھا کہ یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔ان ڈرون حملوں میں سے ایک کا نشانہ بننے والے خیبر پختوا کے علاقے صوابی میں ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک چھوٹا ڈرون گرا ہے۔حکام کے مطابق یہ ڈرون ایک سکول کے قریب گرا ہے جس سے ایک بچی زخمی ہوئی ہے۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے اور تحقیقات بھی جاری ہیں۔
صوابی کے ضلع پولیس افسر وقاص رفیق نے بتایا ہے کہ اگرچہ یہ ڈرون آبادی کے قریب گرا ہے لیکن اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر اس میں سکول نشانہ نہیں تھا۔ اس سے قبل افغان وزارت دفاع کے سوشل میڈیا اکائو نٹ سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں دعوی کیا گیا کہ فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہاور ایب آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔پوسٹ میں دعوی کیا گیا کہ یہ حملے کامیاب رہے۔طالبان حکومت کی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی جانب سے ان کی حدود میں فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
