Skip to main contentSkip to footer

برطانوی جنگی جہاز خلیج عرب سے واپس روانہ ہوگئے

British warships leave Arabian Gulf

برطانوی جنگی جہاز خلیج عرب سے واپس روانہ ہوگئے

امریکا نے ایران کو لوگوں کو بے جاحراست میں رکھنے والا ملک قرار دیدیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ مذاکرات کے نتائج سے خوش نہیں۔اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران ان مطالبات پر آمادہ نہیں جو امریکا کے لیے ضروری ہیں، اس لیے وہ مذاکرات کی موجودہ صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔امریکی صدر نے کہا ایران چاہتاہے تھوڑی بہت یورینیم افزودگی کرے لیکن ایران کو کسی بھی سطح پریورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق سوال پرجواب دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن بعض اوقات ایسا کرنا پڑتا ہے۔ ادھر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ غیرملکی شہریوں کو حراست میں لینا بند کرے اور غیرقانونی طور پر گرفتار تمام امریکی شہریوں کو رہائی دے۔ مارکو روبیو نے

مزید کہا کہ ایسا نہ کیا تو ایران کے خلاف اضافی اقدامات کریں گے۔انہوں نے امریکی شہریوں کو ایران نہ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو ایران میں ہیں وہ فوری انخلا کریں۔ دوسری جانب عمان کے اعلی سفارتکار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اہم امور پر بات چیت جاری ہے۔

عمان کے وزیرخارجہ نے دعوی کیا کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے اور اب بات چیت یورینیم کی افزودگی صفرکرنے پر ہو رہی ہے، اگر افزودہ مواد ذخیرہ نہیں ہوگا تو ایٹم بم بنانا ممکن نہیں۔عمانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلا کو روکنا ہے، اور اس حوالے سے فریقین کے درمیان بات چیت تعمیری

انداز میں جاری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔امریکی اخبار ‘دی ہل’ کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریبا تین سے چار سو کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے اور ماہرین کے مطابق اس مواد کو مزید افزودہ کرکے جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ادھر برطانیہ کے جنگی جہاز خلیج عرب سے واپس روانہ ہوگئے۔

اماراتی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے خلیجِ عرب سے اپنے جنگی جہاز کو واپس بلاتے ہوئے بغیر عملے والی کشتیوں اور ڈرون ٹیکنالوجی سے سمندری نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بحرین میں برطانوی فوجی ہیڈکوارٹر بدستور فعال رہے گا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 1980 کے بعد پہلی بار خلیج عرب میں برطانوی جنگی جہاز مستقل موجود نہیں ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آخری برطانوی جہاز مائن سوئیپر بھی مارچ میں بحرین سے روانہ ہوگا جبکہ برطانوی جنگی جہاز فریگیٹ گزشتہ سال کے آخر میں واپس بلایا جاچکا ہے۔اماراتی میڈیا نے مزید بتایا کہ دفاعی بجٹ میں کمی کے باعث برطانوی بحریہ کو محدود جنگی جہازوں کا سامنا ہے۔

دبئی، ابوظہبی، قطر ،کویت، ریاض میں امریکی اڈے تباہ

Previous Post
افغان طالبان کی 104چیک پوسٹیں ،163ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ