بنوں کے علاقے ڈومیل میں واقع تھانہ ڈومیل پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا ایک بڑا حملہ ناکام بنادیا گیا تاہم دھماکے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوگئے،
تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں نے ایک فیلڈر گاڑی میں تقریباً 1000 سے 1500 کلوگرام بارودی مواد بھر کر تھانہ ڈومیل کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے گاڑی کو پولیس اسٹیشن کی دیوار سے ٹکرانے کی کوشش کی، تاہم وہاں پہلے سے تعینات الرٹ پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حملہ آور تھانے کی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا بیٹھا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے باعث قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، کئی گھروں کی چھتیں گر گئیں جبکہ متعدد مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس المناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہو گئے، جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ امدادی کارروائیوں کے دوران زخمیوں اور شہداء کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سجاد خان، ڈی آئی جی بنوں ریجن، واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ہسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور زیر علاج افراد کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام ممکنہ سہولیات بروئے کار لائی جائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی سجاد خان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنوں پولیس ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بزدلی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔
ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
بعد ازاں سجاد خان نے تھانہ ڈومیل اور دھماکے سے متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی کہ اس مشکل وقت میں بنوں پولیس ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سہولت کار یا دیگر دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا سکے۔ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حساس تنصیبات اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملہ آور اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں بڑے سانحات کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

