بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی کو واضح برتری حاصل ہوگئی
بنگلادیش میں 13 ویں قومی اسمبلی انتخابات اور ریفرنڈم 2026 کے لیے پولنگ مکمل ہوچکی ہے اور 299 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی میں بی این پی کو ابتدائی برتری حاصل ہے جبکہ جماعت اسلامی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔
بنگلا دیش کی جمہوری منتقلی کے ایک اہم لمحے میں، لاکھوں ووٹرز نے بڑے پیمانے پر پُرامن اور تہوار کے ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جو 2024 کے جولائی انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات اور قومی ریفرنڈم کا نشان ہے۔
ابتدائی نتائج میں بی این پی 87 نشستوں پر اور جماعت اسلامی 35 سیٹوں پر لیڈ کر رہی ہے۔ بی این پی نے دعویٰ کیا ہے کہ طارق رحمٰن نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
پارٹی ہے
کے مطابق ان کے رہنما نے ڈھاکہ-17 اور بوگورہ-6 دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جس میں انہوں نے حصہ لیا ۔
بنگلا دیش کے انتخابی قوانین امیدواروں کو ایک سے زیادہ حلقوں میں انتخاب لڑنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن ایک سے زیادہ نشستوں پر منتخب ہونے والے کو ایک برقرار رکھنے اور دوسرے کو خالی کرنے کے لیے منتخب کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی بنگلادیش شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نتائج ہر صورت قبول کرے گی تاہم بڑے پیمانے پر مداخلت نہ ہوئی تو فیصلہ مانیں گے۔
الیکشن رزلٹ کے مرحلے پر انہوں نے کہا کہ ابتدائی نتائج میں جماعت اسلامی کو برتری کے آثار ہیں لیکن قبل از وقت تبصرہ مناسب نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار ملا تو تمام جماعتوں سے تعاون چاہیں گے الیکشن کمیشن اور عوام نے مل کر اچھا انتخاب کرایا، خوف و خدشات کے باوجود بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، ڈھاکا 15میں حریف بھی ساتھی اور ہم سفر ہیں۔
مقررہ وقت پر پولنگ ختم ہونے کے فورا بعد ہی سیکورٹی برقرار رکھنے کے لئے تفویض کردہ فورسز کے ممبران نے پولنگ اسٹیشنوں کے قریب جمع ہونے والے افراد کو منتشر کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں
