انمول پنکی آج کل پاکستان بھر کی خبروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں، کراچی پولیس اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی میں اسے گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس انمول پنکی کو پاکستان کی سب سے بڑٰ خاتون کوکین میکر اور ڈرگ ڈیلر قرار دے رہی ہے
رپورٹس کے مطابق انمول پنکی کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک خفیہ نیٹ ورک چلا رہی تھی جہاں سے وہ کوکین تیار اور سپلائی کرتی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پنکی کے قبضے سے کروڑوں مالیت کی منشیات، کیمیکل اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے جبکہ پنکی ملک بھر میں اربوں روپے کی منشیات سپلائی کرنے اور بیچنے میں ملوث پائی گئی ہے
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انمول پنکی صرف کراچی تک محدود نہیں تھیں بلکہ لاہور، اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں تک بھی اس کا مبینہ نیٹ ورک پھیلا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ پوش علاقوں کی نجی پارٹیوں، یونیورسٹی طلبہ اور بااثر شخصیات تک منشیات پہنچاتی تھیں۔
آمدہ میڈیا رپورٹس کے مطابق انمول پنکی کیخلاف ماضی میں بھی مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اے این ایف نے انمول پنکی کیخلاف پہلا مقدمہ 2019 میں درج کیا گیا تھا جس کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئی اور کئی برس تک اشتہاری رہی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انمول پنکی نے منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائیڈرز کا استعمال کیا تاکہ شک سے بچا جا سکے۔ آن لائن آرڈرز لینے اور مخصوص گاہکوں تک “ڈور ٹو ڈور” سپلائی کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
انمول پنکی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول 17 سال کی عمر میں ماڈل بننا چاہتی تھی اور یہی سوچ لے کر وہ گھر سے نکلی تھی لیکن ایک وکیل سے اس کی شادی ہوئی جو منشیات فروش تھا، انمول پنکی نے شوہر کے ساتھ مل کر منشیات کا کاروبار شروع کردیا لیکن جس ڈی ایس پی نے انمول کو 2019 میں مقدمے کے بعد گرفتار کیا تھا اسی نے انمول سے شادی کرلی تھی جبکہ انمول پہلے سے ہی شادی شدہ بھی تھی اور شادی کے بعد طلاق لی، اس کا پہلا شوہر آج کل انڈونیشیا میں رہائش پذیر ہے۔
ڈی ایس پی نے شادی کے بعد پنکی کے پیسوں سے ہی اسلام آباد میں دو بنگلے خریدے تھے
انمول پنکی اس وقت مزید خبروں میں اس وقت آئیں جب انہیں عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد آئی جی سندھ نے نوٹس لیا اور تین پولیس افسران کو معطل کر دیا۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ پولیس کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات زیادہ تر پولیس اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، اور عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
پنکی پاکستان کی سب سے بڑی کوکین پروڈیوسر ہے یعنی اسکا ذاتی پلانٹ تھا جس میں یہ اعلیٰ قسم کی کوکین بنا کر پورے پاکستان میں فروخت کرتی تھی ، کوکین کے علاوہ یہ ریڈ وائن بھی بناتی اور ایلیٹ کلاس کو اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کرتی تھی، انمول پنکی کے پاس کوکین اور ریڈ۔وائن بنانے کا فارمولا تھا ۔اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسکا مال مہنگا لیکن بہت اعلیٰ ہے یہ بڑی محنت سے دو سے تین اقسام کی کوکین اور ریڈوائن بناتی اور اپنے ہزاروں گاہکوں کو خود یا رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی
ملزمہ سے بڑی مقدار میں تیار مال ، خام مال اور ریڈوائن کی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ اسے بنانے کے لیے درکار کیمیکل اور آلات بھی برآمد ہوئے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ انمول پنکی کی ماہانہ آمدن کروڑوں روپے تھی اور یہ سڑک پر غریبوں میں ہر چند روز بعد لاکھوں روپے تقسیم کرتی تھی اور اپنے ملازمین کو مفت رہائش اور دیگر اخراجات تنخواہ کے علاوہ دیتی تھی
