امریکی حملے میں مارے گئے علی لاریجانی کون تھے؟
علی لاریجانی انقلابِ ایران کے وہ مایہ ناز سپوت اور مدبر سیاستدان تھے اور نظامِ ایران میں توازن اور وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے جن کا سفرِ حیات امریکہ اور اسرائیل کے بزدلانہ حملے میں شہادت پر اختتام پذیر ہوا۔ عالمِ اسلام اور ایرانی سیاست کی قد آور شخصیت، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی سمیت شہید ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور ان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اس خبر کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
علی لاریجانی کا شمار امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والے انقلابِ ایران کے بنیادی اور مخلص رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی خدمات کا آغاز ایران عراق جنگ کے دوران بطور “فرنٹ لائن فائٹر” کیا اور اس معرکے میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کیا۔ شہید لاریجانی نے دہائیوں تک ایران کے اہم ترین ریاستی و دفاعی عہدوں پر کام کیا
انھوں نے 1992 سے 2003 تک بطور وزیرِ ثقافت ملک کی ثقافتی پالیسیوں کی نگرانی کی جبکہ 1993 سے 2004 تک ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کے سربراہ رہے۔ سابق صدر احمدی نژاد کے دور میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری منتخب ہوئے، تاہم سیاسی اختلافات پر استعفیٰ دیا جبکہ وہ 2025 میں دوبارہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری مقرر ہوئے اور اپنی شہادت تک اسی حساس منصب پر فائز رہے۔ شہادت سے محض چند گھنٹے قبل علی لاریجانی نے اپنے آخری ٹوئٹ میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا “میں موت کو اللہ سے ملاقات اور خوشی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔”
ان کی شہادت کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ “ایک بندہِ خدا اپنے رب کے حضور شہید کے طور پر پہنچ گیا ہے۔” شہید علی لاریجانی اور ان کے صاحبزادے کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں اعلیٰ حکام سمیت عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ تہران کی فضا سوگوار ہے اور پوری قوم اس عظیم نقصان پر سراپا احتجاج ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت پر ایرانی پاسداران انقلاب کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں علی لاریججانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کا خون دیگر شہدا کی طرح ایرانی عزت، قومی بیداری کا سبب ہے۔ ان کا خون صہیونیوں کے مقابلے میں حوصلہ افزا ہے۔
شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کا بدلہ لینا کبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی تمام شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت پر ہمارا ردعمل فیصلہ کن ہوگا اور ہمارا جواب دشمن کے لیے شدید پشیمانی کا سبب بنے گا۔ ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ شہید لاریجانی کی انقلابی قیادت نے قوم کے لیے لازوال میراث چھوڑی ہے۔ مجرمانہ اقدامات ایران کی خودمختاری اور دفاع کے راستے میں خلل نہیں ڈالیں گے۔
ان بیانات کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی اپنے بیٹے سمیت شہید ہو گئے تھے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر 292 بار حملہ کیا جا چکا ہے۔

