افغان طالبان کی 104چیک پوسٹیں ،163ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ
پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق میں اب تک 331 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی بھرپور جوابی کارروائی میں افغان فورسز کو ہونے والے نقصان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئیبتایا کہ اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 22 قبضے میں لی گئیں۔عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے 163 ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کیں
اور افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور افغان طالبان حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ اب روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے اور پاکستان اس معاملے پر بارہا عالمی برادری کو آگاہ کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش اور دیگر دہشتگرد حملوں میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، افغانستان ہر قسم کی پناہ اور سہولت کاری ان عناصر کو فراہم کر رہا ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
ادھر ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے پاک فوج نے افغانستان کے علاقہ دوربابا میں افغان پوسٹ پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 2 اہم طالبان کمانڈرز سمیت 4 افراد مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے سرحد پار افغانستان کے علاقے دوربابا میں افغان طالبان کے ایک مرکز (دوربابا) کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گولہ باری میں مارے جانے والوں میں دو اہم طالبان کمانڈرز بسم اللہ اور رستم شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد افغان طالبان کے رضاکار تھے۔سکیورٹی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دوربابا میں قائم افغان پوسٹ (دوربابا مرکز) بھی تباہ ہوگئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے ژوب سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی طاہر پوسٹ کو تباہ کردیا جبکہ افغان طالبان کے جنڈوسر پوسٹ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے میرانشاہ کے قریب افغان طالبان کے پوسٹ ٹاور کو تباہ کر دیا، اعظم وارسک سیکٹر میں بھی افغان طالبان کی شاگاپوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے دہشتگردوں کی تشکیل کو مثر انداز میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب پاک فوج نے پاک افغان سرحدپر غلام خان سیکٹر میں افغان پوسٹ کو بھی تباہ کردیا جس کے بعد غلام خان سیکٹر میں تباہ شدہ پوسٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز افغان طالبان رجیم کے فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلی جرگہ تھانااور رحیم تھانا پوسٹ تباہ کردی۔ پاک فوج نے افغان طالبان کی خیبر پوسٹ مکمل تباہ کردی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی سے دشمن کے ٹھکانوں کو بھاری نقصان پہنچا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ کوتباہ کردیا۔
پاک فوج کی کارروائی میں افغان طالبان کیاوماری کیمپ کوبھی بھاری نقصان اٹھاناپڑا۔ س سے قبل افغان طالبان کے فوجی آریانہ کمپلیکس اور دبگئی چیک پوسٹ بھی تباہ کی گئی۔ افغان پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکر خیل پوسٹ کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔ذرائع کے مطابق کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی۔ واقعے کے بعد سرحدی علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔

