امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں روسی اور یوکرینی حکام کی میزبانی کی جہاں روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی شہر اولیشکی میں 6 روزہ جنگ بندی کا جائزہ لیا گیا۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی کیرل دمتریئیف بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جنہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاہدے کے لیے میلانیا ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ دمتریئیف نے میلانیا ٹرمپ کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر پیوٹن نے خود اس کارروائی کی حمایت میں ہدایات جاری کی تھیں۔اجلاس میں یوکرینی حکام ڈیوڈ اراخامیا اور انسانی حقوق کے محتسب دمترو لوبینٹس بھی شریک ہوئے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس میں موجود نہیں تھے۔
24 گھنٹے کی ڈیوٹی نے روبوٹس کی کارکردگی کا پول کھول دیا، 6 میں سے 2 ناکام
23 اکتوبر کو طے پانے والے معاہدے کے تحت اولیشکی میں امدادی سامان پہنچانے اور شہریوں کے انخلا کی اجازت دی گئی۔عارضی جنگ بندی 27 اکتوبر سے یکم نومبر تک جاری رہی جسے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد لڑائی میں اہم ترین وقفہ قرار دیا گیا ہے۔معاہدے کے آغاز پر گائوں میں تقریبا 2,000 افراد موجود تھے جبکہ میلانیا ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 750 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ عارضی جنگ بندی مستقل امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اہم بات اس آغاز کا محدود ہونا نہیں بلکہ اسے غیر معمولی کامیابی میں تبدیل کرنے کا عزم ہے۔

