Skip to main contentSkip to footer

لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 347 ریکارڈ

لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 347 ریکارڈ

لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا، جہاں ہفتے کو صبح 7 بجے پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 347 ریکارڈ کیا گیا، شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح انتہائی بلند اے کیو آئی 500 تک پہنچ گیا۔ آئی کیو ائیر کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور جمعے کو صبح 288 اے کیو آئی کے ساتھ عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس نے صبح 7 بجے لاہور کا اے کیو آئی 347 ریکارڈ کیا جبکہ جمعرات کو اسی وقت لاہور کا اے کیو آئی 305 تھا، یوں جمعے کو پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کی ریڈنگ میں 42 پوائنٹس اضافہ ہوا، مختلف پلیٹ فارمز پر ریڈنگز میں فرق مانیٹرنگ اسٹیشنز اور ڈیٹا اپ ڈیٹ ہونے کے اوقات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

ایران جنگ ٹرمپ کیلئے ڈراونا خواب بن گئی،سینیٹ الیکشن میں 10نشستوں پر شکست کا خوف

آئی کیو ائیر کی عالمی درجہ بندی میں بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 243 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے، سینیگال کا شہر ڈاکار 194 کے ساتھ تیسرے اور بھارتی شہر کولکتہ 178 اے کیو آئی کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور صوبے کا سب سے آلودہ شہر رہا، ننکانہ صاحب 345 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے، قصور 292 کے ساتھ تیسرے، شیخوپورہ 278 کے ساتھ چوتھے اور وزیرآباد 275 اے کیو آئی کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی، شاہدرہ، کاہنہ نو اور ملتان روڈ میں اے کیو آئی 500 تک پہنچ گیا، گلبرگ تھری میں 394، ڈی ایچ اے فیز 6 میں 379 اور پنجاب یونیورسٹی کے علاقے میں 316 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔حکام کے مطابق مشرقی ہواں کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، ان ہواں کے ذریعے سرحد پار سے آلودہ ہوا پنجاب میں داخل ہونے کے باعث فضائی معیار متاثر ہوا۔

دنیا گلوبل وارمنگ کی خطرناک ترین حد کے قریب پہنچ گئی

ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ کی زیر نگرانی لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا آپریشن جاری رہا ہے اور فضائی آلودگی کی مانیٹرنگ ریڈنگز کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں مشینری تعینات کی جا رہی ہے، زیادہ آلودگی والے مقامات پر ترجیحی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ممبر آپریشنز و فوکل پرسن محکمہ ماحولیات ساجد بشیر نے بتایا کہ اینٹی اسموگ گنز کی تعیناتی کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ مانیٹرنگ ریڈنگز کے مطابق کی جاتی ہے، بالخصوص ان مقامات پر مشینری چلائی جاتی ہے جہاں پی ایم 10 (PM10) سمیت معلق ذرات کی سطح بلند ہو تاکہ سڑکوں اور اطراف میں موجود گردوغبار کو دبانے اور اس کے پھیلا میں کمی لانے میں مدد مل سکے۔

7 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا 80 فیصد مکمل ڈھانچہ 5کروڑ ڈالر میں فروخت

محکمہ ماحولیات کے مطابق جمعہ 23 اکتوبر کو قائداعظم کیمپس، بیکھے وال، مسلم ٹان، مولانا شوکت علی روڈ، گلبرگ، ایس ٹی ای ڈی ایکس کمپلیکس، ڈاکٹرز اسپتال، مین ملتان روڈ، جیل روڈ، جناح ٹان، پاسکو سوسائٹی، ڈیفنس چوک، ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک، این ایل سی کمپلیکس، ایوان اقبال، شاہراہ قائداعظم، غازی روڈ، یو ای ٹی جی ٹی روڈ، ڈی ایچ اے فیز ون، کاماہا اسٹیشن، حاجی کیمپ، شالیمار باغ، چونگ پولیس ٹریننگ سینٹر، ڈیٹا دربار روڈ، لمز، ڈی ایچ اے فیز ٹو، ڈیرا گجر، لاہور جنکشن، سوامی نگر، میٹرو بس اسٹیشن جنرل اسپتال، ڈی ایچ اے فیز فائیو، بھٹی چوک، بیڈین روڈ اور علامہ اقبال روڈ سمیت متعدد مقامات پر اینٹی اسموگ گنز چلائی گئیں۔ساجد بشیر کا کہنا تھا کہ متعلقہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہیں اور ضرورت کے مطابق مشینری ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کی جا رہی ہے۔محکمہ ماحولیات کا کہنا تھا کہ مانیٹرنگ ریڈنگز کی بنیاد پر زیادہ آلودگی والے علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور صورت حال کے مطابق مزید مقامات پر بھی اینٹی اسموگ گنز تعینات کی جائیں گی۔

 

چاند سکڑنے لگا، 10 ہزار سے زیادہ نئی فالٹ لائنز کی نشاندہی

اگلی پوسٹ
صارفین کو اضافی اور غلط بل بھیجنے پر ڈسکوز کیخلاف کارروائی کا حکم
پچھلی پوسٹ
سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں، فیصل کریم کنڈی