Skip to main contentSkip to footer

پشاور میں ٹریفک قوانین خلاف ورزی پر سخت جرمانوں کا نظام متعارف

پشاور میں ٹریفک قوانین خلاف ورزی پر سخت جرمانوں کا نظام متعارف
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر جرمانوں کا نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور میں ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب تک سزا و جزا کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوگا، ٹریفک کے مسائل برقرار رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کرنے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔

تجاوزات آپریشن، 1998 سے پہلے تعمیر مکانات مسمار نہ کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز ڈی آئی جی اعجاز رائے، چیف ٹریفک آفیسر زاہد اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ گورنر کو پشاور میں ٹریفک کی روانی، رش والے مقامات، ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ پشاور میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے سندھ، بالخصوص کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ ماڈل کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے ٹریفک سگنلز کو جلد از جلد فعال اور درست کرنے، یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور انڈر پاسز سے متعلق منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 5,664 ٹریفک وارڈنز تعینات ہیں، جن میں سے 1,867 پشاور میں فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی بھرتیوں کا عمل بھی جاری ہے۔ پشاور میں ٹریفک کے مسائل سے دوچار 24 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور بہتری کے لیے 10 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے12 اضلاع میں دہشتگردوں کی 201 تشکیلیں موجود ہیں، راناثنااللہ

بریفنگ میں بتایا گیا کہ خراب اور کھلے مین ہولز بھی ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں، جبکہ انڈر پاسز کی تعمیر سے شہر میں ٹریفک کے متعدد مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ گورنر نے بالخصوص یونیورسٹی روڈ پر رش والے مقامات کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں پشاور میں رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2016 کے بعد رکشوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ پشاور میں ایک لاکھ سے زائد رکشے موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 23 ہزار رجسٹرڈ ہیں جبکہ بڑی تعداد رجسٹریشن سے محروم ہے۔ بریفنگ میں غیر رجسٹرڈ رکشوں، موٹر سائیکلوں اور ہتھ ریڑھیوں کو بھی ٹریفک مسائل کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے آئندہ ہفتے متعلقہ محکموں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ حکام نے بتایا کہ رکشوں کی رجسٹریشن ایکسائز ڈیپارٹمنٹ جبکہ روٹ پرمٹس کا اجراء ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام تیار

ڈرائیونگ لائسنس کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں لائسنس پرنٹنگ مراکز فعال ہیں اور اب تک 20 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ لائسنس کے اجراء کے لیے شہریوں کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے، جبکہ 30 ہزار سے زائد بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس بھی پرنٹ کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں ٹریفک قوانین سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے تعلیمی نصاب میں متعلقہ مضامین شامل کرنے کی تجویز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے شہری مسائل کا حل اور ٹریفک نظام کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور پشاور کی خوب صورتی اور شہری شناخت کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ایل پی جی 600 روپے کلو ہوگئی

اگلی پوسٹ
مذاکرات کا مذاق اڑانے والوں پر اب کوئی بھروسہ نہیں، محمود اچکزئی
پچھلی پوسٹ
تجاوزات آپریشن، 1998 سے پہلے تعمیر مکانات مسمار نہ کرنے کا فیصلہ