ریٹائرڈ افسران کی بیرون ملک منتقلی کے بعد اپنی پنشن بھی غیر ملکی کرنسی میں وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں سے ریٹائر ہونے والے 33 اعلی افسران بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں اور غیر ملکی کرنسی میں خطیر رقم بطور پنشن وصول کر رہے ہیں۔دستاویزات کے مطابق حکومت پاکستان ان ریٹائرڈ افسران کو سالانہ 34 کروڑ 21 لاکھ روپے کی ادائیگی کرتی ہے، جو کہ براہ راست متعلقہ غیر ملکی کرنسی میں منتقل کی جاتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ انکشاف ملک میں افسر شاہی کے مالی معاملات اور مراعات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
مزید برآں کئی ممالک میں رہائش پذیر دیگر ریٹائرڈ افسران کو ملکی کرنسی میں بھی پنشن کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم وزارت خارجہ کے پاس ان تمام افسران کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں جو ملکی کرنسی میں پنشن وصول کر رہے ہیں، جس سے ڈیٹا کی فراہمی میں ابہام پیدا ہوا ہے۔ملک کو درپیش معاشی بحران کے دوران سرکاری خزانے سے بیرون ملک مقیم ریٹائرڈ افسران کو خطیر رقوم کی ادائیگی خصوصا غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کو پنشن اصلاحات پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ ملکی زرمبادلہ پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔وزارتِ خزانہ نے ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے سوال پر تحریری جواب پیش کیا جس کے مطابق مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 33 پنشنرز بیرونِ ملک مقیم ہیں
شوگر مافیا نے ایک سال کے دوران عوام کو کتنا لوٹا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پنشنرز کی تقرری 2 جنوری 1959 سے پہلے ہوئی تھی،پنشنرز کی پنشن دیگر ملازمین کی طرح اے جی پی آر کی جانب سے پاکستانی روپے میں کی جاتی ہے،پاکستانی مشنز کے توسط سے چیف اکانٹ آفیسر بینک میں غیر ملکی کرنسی منتقل کرتے ہیں۔پنشنرز کی پنشن کو ڈالر پروٹیکشن حاصل نہیں ہے،روپے کی قدر میں کمی سے زرِ مبادلہ کا نقصان حکومت نہیں بلکہ پنشنر خود برداشت کرتا ہے،33پنشنرز مختلف وزارتوں، محکموں اور دفاتر سے تعلق رکھتے ہیں۔جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ روپے میں پنشن لینے والے بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کی معلومات اے جی پی آر کے پاس نہیں،بیرونِ ملک منتقلی سے متعلق اے جی پی آر کو اطلاع دینا پنشنرز پر قانونی طور پر لازم نہیں۔
پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
بیرونِ ملک مقیم پنشنرز صرف پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی شرط پوری کرتے ہیں،اے جی پی آر کے پاس پنشنرز کی رہائش گاہ معلوم اور تصدیق کرنے کا طریقہ موجود نہیں ہے ۔وزارت خزانہ کے مطابق 2021سے اب تک 33 پنشنرز کو 34 کروڑ 21 لاکھ 9 ہزار 614 روپے کی غیر ملکی کرنسی ادا کی گئی ،واشنگٹن 11، نیویارک 10 اور اٹاوا میں 4 پنشنرز کو ادائیگی کی جا رہی ہے،اسی طرح ہوسٹن، ویانا، ٹورنٹو، لندن، وینکور، کینبرا اور اسٹاک ہوم میں پنشنر کو ادائیگی کی جا رہی ہے۔

