امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس کے راکٹ فالکن 9 کا ایک حصہ اس وقت ممکنہ طور پر چاند سے ٹکرا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا یہ بالائی حصہ تقریبا پانچ منزلہ عمارت کے برابر تھا اور اس کا وزن کم از کم چار ہزار کلوگرام تھا۔ ٹکرانے سے پہلے یہ تقریبا 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریبا 5400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے مدار میں گردش کر رہا تھا۔یہ راکٹ جنوری 2025 میں امریکہ اور جاپان کے ایک مشترکہ مشن کے تحت خلا کی جانب لانچ کیا گیا تھا۔اس کا کام یہ تھا کہ چاند پر اترنے کے لئے تیار کی گئی دو خلائی گاڑیوں کو اتنی طاقت سے دھکا دے کہ وہ زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے رخ سفر کرنے لگیں۔مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا یہ حصہ خلا میں مدار میں گردش کرتا رہا۔
راکٹ چاند سے کیسے ٹکرایا؟
گذشتہ 18 ماہ کے دوران چاند اور سورج کی کششِ ثقل نے اس کا راستہ آہستہ آہستہ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں یہ چاند سے تصادم کے راستے پر آ گیا۔چاند کے گرد مدار میں موجود کوئی بھی خلائی جہاز اس مقام پر موجود نہیں تھا کہ تصادم کی براہِ راست تصاویر ریکارڈ کر سکتا۔ اس لئے سائنس دان تصادم سے پہلے اور بعد والی تصاویر کا موازنہ کریں گے تاکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی گڑھے یا کسی اور نشانی کی شناخت کر سکیں۔ماہرِ فلکیات کا کہنا ہے کہ سپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کا بڑا فائدہ فوری طور پر نہیں بلکہ تقریبا ایک ہفتے بعد سامنے آئے گا، جب سائنس دان متاثرہ مقام کی تفصیلی تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کریں گے۔ ان کے مطابق اس سے چاند کی سطح پر تصادم کے اثرات اور مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ماہرین کے مطابق چاند اور خلا میں بھٹکتے ہوئے سپیس ایکس راکٹ کے درمیان تصادم سے کسی قسم کا خطرہ نہیں، خصوصا زمین کے لئے ۔ناسا کے ترجمان جیمی رسل نے کہا کہ اگرچہ ناسا سائنسی مقاصد کیلئے تصادم کے مقام کا مشاہدہ جاری رکھے گا
خیبر پختونخوا میں تیز بارش اور فلش فلڈ کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق
تاہم زمین کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ناسا کے سائنس دان اس واقعے سے حاصل ہونے والے قمری ڈیٹا کو جمع کرنے اور خلا میں موجود اشیا کی نگرانی اور ٹریکنگ کی تکنیکوں کو مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیمبرج کے پبلک آسٹرونامر ڈاکٹر میٹ بوتھ ویل نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی چیز ہے جو چاند سے ٹکرا رہی ہے۔ اس میں کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ ہم بس اس منظر کو دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے ماہرین فلکیات کی ایک نئی تحقیق نے چاند پر نامعلوم اجسام کی موجودگی سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ۔تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران چاند کے گرد یا اس کی سطح کے قریب 20 سے زائد نامعلوم اجسام دیکھے گئے تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ شواہد کسی غیر انسانی یا ذہین تہذیب کے وجود کو ثابت کرنیکیلئے کافی نہیں۔
ٹرمپ مشکل میں پھنس گیا، جنگ میں امریکا کے پاس ہتھیار ختم
یوکرین کی مین آسٹرونومیکل آبزرویٹری کے سائنسدانوں کے مطابق مشاہدات کے دوران متعدد ایسے اجسام ریکارڈ کیے گئے جن کی حرکت اور چمک کے انداز غیر معمولی تھے جس کی وجہ سے ان کی اصل نوعیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے۔محققین نے یہ بھی دعوی کیا کہ 16 اگست 2025 کو دن کے وقت حلقہ نما اجسام کا بھی مشاہدہ کیا گیا جو تقریبا تمام شعاعوں کو جذب کرتے دکھائی دیے۔ ان کا قطر تقریبا 22 میل تھا، وہ ہر تین منٹ میں ایک چکر مکمل کرتے تھے اور ان کی رفتار تقریبا 6.8 میل فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں لکھا کہ اگرچہ ان اجسام کی بعض خصوصیات کسی منظم سرگرمی کی عکاسی کر سکتی ہیں تاہم موجودہ مشاہدات اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتے کہ ان پر کسی ذہین مخلوق کا کنٹرول ہے۔سائنسدانوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ممکن ہے
کامن ویلتھ گیمز’ پاکستانی باکسر سمیت کئی ایتھلیٹس گلاسکو میں لاپتہ
چاند نامعلوم فضائی اجسام (یو ایف اوز) کے لئے ایک اڈے کے طور پر استعمال ہو رہا ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ اجسام تقریبا 20 منٹ میں زمین تک پہنچ سکتے ہیں اور فضائی حدود میں نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پیز) کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔تاہم محققین نے خود بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ تحقیق ابھی پیئر ریویو کے مرحلے سے نہیں گزری اور نہ ہی اس کے نتائج کی کسی آزاد سائنسی ادارے نے تصدیق کی ہے اس لیے ان دعوں کو حتمی سائنسی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ان اجسام کی غیر معمولی اور بظاہر منظم حرکات مزید تحقیق کی متقاضی ہیں تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کا تعلق کسی غیر انسانی یا انتہائی ترقی یافتہ تہذیب سے ہے۔
جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں

