اسرائیل نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں تیزی آئیگی۔ اس دوران اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے اندر اہداف کی ایک نئی فہرست تیار کر رہا ہے جس میں بجلی گھر اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔اسرائیلی چینل کے مطابق حالیہ دنوں میں یروشلم میں ہونے والے سکیورٹی اور سیاسی اجلاسوں کے دوران پیش کردہ اندازوں میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے آنے والے عرصے میں پھیلنے کا قوی امکان ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکی عسکری کارروائیاں ایرانی اہداف کے خلاف جاری ہیں۔ امریکہ ایران کے اندر اہداف کی ایک نئی فہرست تیار کر رہا ہے جس میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل سے منسلک تنصیبات شامل ہیں۔
ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے پانچ افغانی ہلاک ،14لاپتہ
اس کا مقصد ایرانی بنیادی ڈھانچے کے اس حصے کو نشانہ بنانا ہے جسے وہ کمزور ترین کڑی سمجھتے ہیں، یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ بیانات سے ہم آہنگ ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے کہاگیاکہ ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں،کشیدگی کے خدشات کے باوجود چینل نے نشاندہی کی کہ اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کا اندازہ یہ ہے کہ محاذ آرائی ابھی بھی امریکہ اور ایران تک محدود رہے گی اور فی الحال اس کے اسرائیل منتقل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اسرائیلی اندازوں کے مطابق تہران اس بات کو سمجھتا ہے کہ خلیجی خطے سے حملوں کو اسرائیل تک پھیلانے کے بڑے نتائج برآمد ہوں گے
امریکی فوج کے ایران پر مسلسل نویں رات حملے ،میزائل و ڈرون لانچ سائٹس تباہ
یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق تہران نے اب تک اسرائیل کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔اسرائیلی چینل کی جانب سے اہداف کی نئی فہرست کی تیاری یا ممکنہ اہداف کی نوعیت کے بارے میں دی گئی اطلاعات پر امریکہ یا ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔اسی تناظر میں اسرائیلی ٹی وی دو مغربی سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ قطر نے امریکہ اور ایران کو ایک نئی پیشکش پیش کی ہے جس کا مقصد مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی کو قابو میں لانا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران قطری پیشکش کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ اس کے کچھ مطالبات کو پورا کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے فی الحال قطر کی جانب اپنے حملے روک دیے ہیں۔یہ اندازے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ مسلسل چھٹی رات بھی ایران کے اندر عسکری حملے کر رہا ہے۔
امریکیوں کو ایران کے ساتھ جنگ لمبی چلنے کا یقین
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے میزائل ڈپو، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، ڈرون ذخائر اور بحری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ایسی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس سے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی یا امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر ایران کی جانب سے امریکی یا اتحادی مفادات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مزید فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم سفارتی حلقے اب بھی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کو واحد پائیدار حل قرار دے رہے ہیں۔ تاحال امریکہ نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اس کے “کتنے اہداف باقی” ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں اہداف کی کوئی مقررہ تعداد نہیں ہوتی بلکہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات اور زمینی صورتحال کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکہ کے پاس مثلاً 10 یا 20 اہداف باقی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام مختلف مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ ان کی مہم کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو محفوظ بنانا ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن جنگ کو ایک ہزار دن مکمل

