اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف 7 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضا اور انسانی ٹشوز کی مبینہ غیرقانونی تجارت میں ملوث ایک نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق خفیہ اطلاع پر ایک گھر میں چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی مقدار میں انسانی حیاتیاتی مواد، پروسیسنگ مشینری انسانی اعضااور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔ کارروائی کے دوران 3 چینی شہری اور 2 پاکستانی شہری گرفتار کیے گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر انسانی پلاسینٹا اور دیگر ٹشوز سمگل کرتے تھے ، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مواد مبینہ طور پر ویتنام بھیجا جاتا تھا، جہاں اسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایف آئی اے نے اسلام آباد کے ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا، جہاں سے ایک اور مبینہ پروسیسنگ سینٹر، ریفریجریٹرز اور انسانی حیاتیاتی مواد برآمد کیا گیا، جبکہ مزید پاکستانی شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ انسانی اعضا اور دیگر مواد فرانزک اور ڈی این اے تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ اس کی مکمل نوعیت اور اصل کا تعین کیا جا سکے۔
وینزویلا میں تباہ کن زلزلہ، 20 ہزار ہلاکتوں کا خدشہ
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ نیٹ ورک صرف انسانی ٹشوز کی غیرقانونی تجارت تک محدود تھا یا اس کے روابط کسی بڑے بین الاقوامی گروہ سے بھی تھے۔ تاہم ابھی تک کسی قتل یا لاش کی برآمدگی کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دبئی جانیوالے مسافروں کیلئے بڑی خوشخبری،مفت فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام

