سعودی اور برطانوی ماہرین نے مکہ مکرمہ کے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر کے فاصلے پر مصری عازمین حج کے راستے میں واقع مقام میقات الجحفہ میں بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار کے 1700 سے زیادہ تاریخی نوادرات دریافت کیے ہیں۔ یہ نوادرات سعودی ہیریٹیج کمیشن نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی تلاش کے مشترکہ سائنسی مشن کے پہلے سیزن میں دریافت کیے جو اب مکمل کر لیا گیا ہے۔
میقات الجحفہ کی قدیم سائٹ سیدریافت ہونے والے نوادرات میں مٹی کے برتن، شیشہ، پتھروں کے ٹکڑے، صدف اور ہاتھ سے بنی ہوئی دیگر مصنوعات شامل ہیں۔الجحفہ میقات مکہ مکرمہ کے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے اسلام کے ابتدائی زمانے ہی سے مسلمہ میقات تسلیم کیا جاتا ہے جس کی نسبت پیغمبر اسلام ۖکی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے ہے۔خیال ہے کہ یہ مقام دوسری صدی ہجری میں بامِ عروج پر تھا
اور یہاں پانی کی سہولتیں، بازار اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے زائرین کے لیے دیگر چیزیں دستیاب ہوا کرتی تھیں۔یہ دریافتیں ہیریٹیج کمیشن کی آثارِ قدیمہ کے ایسے مقامات کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اس راستے پر واقع ہیں جسے پیغمبر اسلام ۖنے ہجرت کے لیے منتخب کیا تھا۔اِس مشن کے دوران جدید ٹیکنالوجیوں کو استعمال کیا گیا تاکہ مملکت کی تاریخی اور تہذیبی گہرائی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم ہو سکیں۔
سعودی عرب میں عباسی دور کے 100زیورات دریافت
میقات حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے والے زائرین حج و عمرہ کے لیے احرام باندھنے کے لیے شریعت کی جانب سے مقرر کردہ مقام کو کہتے ہیں جن کی کل تعدادپانچ ہے ۔ان میں ذوالحلیفہ مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے،جحفہ شام اور مصر کی طرف سے آنے والوں کے لیے
قرن المنازل نجد اور طائف کی طرف سے آنے والوں کے لیے،یلملم یمن اور جنوب کی طرف سے آنے والوں کے لیے اور ذاتِ عرق عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے مقرر ہے۔

