Skip to main contentSkip to footer

عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کئے گئے

عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کئے گئے

پاکستان بھر میں عید الاضحیٰ 2026 مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی جبکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد نے سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی دی۔ رواں سال عید الاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کی تعداد، ان کی قیمتوں اور اس سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف اداروں اور تنظیموں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں قربانی کا شعبہ نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی اربوں روپے کی سرگرمی پیدا کرتا ہے۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن اور دیگر معاشی اداروں کی رپورٹس کے مطابق رواں سال ملک بھر میں تقریباً 74 لاکھ سے زائد جانور قربان کیے گئے۔ بعض تازہ تخمینوں کے مطابق یہ تعداد 74 لاکھ 18 ہزار سے بڑھ کر تقریباً 74 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال عید الاضحیٰ پر تقریباً 30 لاکھ 27 ہزار گائیں، 2 لاکھ 87 ہزار بھینسیں، 35 لاکھ 81 ہزار بکرے، 4 لاکھ 54 ہزار بھیڑ اور دنبے جبکہ 67 ہزار سے زائد اونٹ قربان کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق مجموعی قربانیوں میں سب سے زیادہ حصہ بکریوں کا رہا جبکہ مہنگائی کی وجہ سے مشترکہ قربانی کا رجحان رہا اور گائے کی قربانی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گزشتہ برس بھی عید الاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کی تعداد تقریباً 74 لاکھ 18 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال عید الاضحیٰ پر قربانی کی مجموعی تعداد میں تقریباً 1.62 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ گائے کی قربانی میں 6.4 فیصد اضافہ جبکہ بھینسوں کی قربانی میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بکریوں کی قربانی میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی

اگر 2024 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس سال ملک میں عید الاضحیٰ پر تقریباً 68 لاکھ 8 ہزار جانور قربان کیے جانے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس طرح 2024 کے مقابلے میں 2025 اور 2026 میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں واضح اضافہ سامنے آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کی بہتر دستیابی، دیہی علاقوں میں جانوروں کی افزائش اور مشترکہ قربانی کے بڑھتے رجحان نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے برعکس اگر 2023 کا جائزہ لیا جائے تو اس سال قربانی کے جانوروں کی تعداد تقریباً 63 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت پاکستان شدید مہنگائی، معاشی بحران اور قوتِ خرید میں کمی کا سامنا کر رہا تھا، جس کے باعث قربانی کے جانوروں کی خریداری متاثر ہوئی۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن نے اس وقت بتایا تھا کہ قربانی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 سے 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق 2023 میں قربانی کی تعداد کم ہونے کی بڑی وجوہات میں جانوروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی کی بلند شرح، چارے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ اور عوام کی کمزور مالی حالت شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے خاندانوں نے انفرادی قربانی کے بجائے اجتماعی قربانی کو ترجیح دی جبکہ کچھ افراد قربانی سے بھی محروم رہے

گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق ملک میں عید الاضحیٰ پر قربانی کرنے والے افراد کی شرح میں بھی وقت کے ساتھ کمی دیکھی گئی۔ سروے میں بتایا گیا کہ 2018 میں 52 فیصد افراد قربانی کرتے تھے جبکہ 2023 میں یہ شرح کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔ اس رجحان کو معاشی دباؤ اور مہنگائی سے جوڑا گیا۔

دوسری جانب قربانی کا شعبہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس کے مطابق عید الاضحیٰ کے تین دنوں کے دوران جانوروں کی خرید و فروخت، چارہ، ٹرانسپورٹ، قصابوں کی اجرت، کھالوں کی تجارت اور دیگر شعبوں میں سینکڑوں ارب روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق قربانی سے 700 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمی وجود میں آتی ہے جبکہ لاکھوں افراد کو عارضی روزگار بھی حاصل ہوتا ہے۔

رواں سال بھی ملک بھر میں مویشی منڈیوں میں خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا، تاہم شہریوں کی بڑی تعداد نے آن لائن قربانی اور اجتماعی قربانی کے آپشنز کو ترجیح دی۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فلاحی اداروں کے ذریعے قربانی کرانے کا رجحان گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مہنگائی اب بھی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، تاہم 2023 کے مقابلے میں 2025 اور 2026 میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے مذہبی فریضے کی ادائیگی کو ترجیح دی۔ دیہی معیشت میں مویشی پالنے والوں کو بھی اس سیزن میں اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوئی جس سے مقامی کاروبار کو فروغ ملا۔

اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں عید الاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کی تعداد گزشتہ چند برسوں کے دوران اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 2023 میں تقریباً 63 لاکھ 60 ہزار جانور قربان ہوئے، 2024 میں یہ تعداد 68 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ 2025 اور 2026 میں 74 لاکھ سے زائد جانور قربان کیے گئے۔ یوں 2023 کے مقابلے میں رواں سال عید الاضحیٰ پر تقریباً 11 لاکھ سے زائد جانور زیادہ قربان کیے گئے، جو قربانی کے رجحان میں نمایاں بحالی کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مویشیوں کی پیداوار اور سپلائی میں بہتری برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں بھی قربانی کے جانوروں کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ یہ شعبہ پاکستان کی دیہی معیشت اور لائیو اسٹاک انڈسٹری کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

گائے کا گوشت ذیابیطس کا باعث نہیں بنتا، نئی تحقیق

Next Post
پاکستان میں سالانہ 93ہزار بچے ٹی بی کا شکار ہونے لگے
Previous Post
پاکستان میں ایبولا وائرس کا خطرہ انتہائی کم ہے، وزارت صحت