Skip to main contentSkip to footer

لنڈی کوتل میں انگریز دور سے زنجیروں میں جکڑا درخت رہائی کا منتظر

لنڈی کوتل میں انگریز دور سے زنجیروں میں جکڑا درخت رہائی کا منتظر

لنڈی کوتل میں انگریز دور سے زنجیروں میں جکڑا درخت تاحال رہائی کا منتظرہے۔ لنڈی کوتل کی تاریخی چھائو نی میں موجود درخت بظاہر ایک عام سا درخت ہے مگر اس کی کہانی ماضی کے ایک ایسے واقعہ سے جڑی ہے جو آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس درخت پر انتظامیہ کی جانب سے نصب بورڈ میں تحریر ہے مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے، برطانوی دور حکومت میں ایک شام نشے کی حالت میں موجود ایک فوجی افسر کو لگا کہ میں اپنی اصل جگہ سے ہل رہا ہوں ہے جس کے بعد اس نے مجھے گرفتار کرنے کا حکم دیا اور تب سے میں گرفتار ہوں۔میڈیارپورٹ کے مطابق مقامی سیاح ابوذر آفریدی نے بتایا کہ یہ واقعہ انگریز دور کی ان انوکھی داستانوں میں سے ایک ہے جو آج بھی علاقے کی تاریخ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ درخت آج بھی اسی حالت میں موجود ہے

گویا وقت وہیں رک گیا ہو۔ لنڈی کوتل کا وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعہ حقیقت سے زیادہ ایک تاریخی روایت کی شکل اختیار کر گیا ہے، اگرچہ یہ اخروٹ کا درخت اب پھل نہیں دیتا تاہم سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے ایک دلچسپ کشش ضرور رکھتا ہے۔مقامی شہری ثنااللہ کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس درخت نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے تو اسے اب آزاد کر دینا چاہئے، لنڈی کوتل چھانی میں آج بھی یہ درخت پابہ زنجیر تاریخ کے منہ پر طمانچے ماررہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ درخت انگریزوں کے غیر منصفانہ قوانین کی یادگار ہے

اسے سنبھالنے کا مقصد اپنی آنے والی نسلوں اور دنیا کو برطانوی حکمرانوں کے برصغیر کے لوگوں پر کیے گئے ظلم کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔لنڈی کوتل کا یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب پورے ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد جاری تھی اورقبائلی علاقوں میں جنگ کا آغاز ہوچکا تھا، اسی دوران برٹش آرمی کی جانب سے سخت قوانین جاری کیے گئے جن میں سے ایک ایکٹ فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن تھا۔اس ایکٹ کے تحت حکومت کسی بھی شخص کے جرم کی سزا اس کے خاندان یا قبیلے کو دے سکتی تھی لیکن قید ہونے والے اس درخت کا نہ تو کوئی جرم تھا

نہ قبیلہ اور نہ ہی خاندان، البتہ یہ درخت برطانوی قبضہ گیری کی ایک مثال بن گیا جسے مقامی لوگوں نے اسی طرح محفوظ کیا ہوا ہے۔

 

خیبرپختونخوا میں تین ماہ کے دوران دہشتگردی کے 475واقعات

 
Next Post
غیر قانونی نقل مکانی کی کوششوں کے دوران 8 ہزار افراد ہلاک
Previous Post
وادی کالاش میں موت پر خوشی کا جشن منانے کی منفرد روایت