ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا ہے کہ اس سال موسمی حالات گزشتہ برس کے مقابلے میں مختلف اور زیادہ شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ عالمی موسمیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس سال عام ایل نینو کے بجائے “سپر ایل نینو کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید اور طویل گرمی کی لہریں، نمی کے ساتھ خطرناک درجہ حرارت اور اچانک موسلادھار بارشیں اور کلاڈ برسٹ جیسے واقعات ہوسکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر زینب نعیم کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے برعکس اس سال مسلسل مون سون بارشوں کے بجائے طویل خشک موسم اور اچانک شدید بارش دیکھنے میں آسکتی ہے، جس سے شدید سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس بار اپریل کے آخر سے ہی شدید گرمی کا آغاز ہوچکا ہے، اس لیے مئی، جون، جولائی اور اگست انتہائی دبا ئووالے مہینے ہوں گے اور ستمبر تک یہ صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
درجہ حرارت سے متعلق سوال پر ماہرِ ماحولیات نے بتایا کہ اس میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے اس سال رات کے درجہ حرارت میں بھی 2 سے 5ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے، جس سے شہری علاقوں میں گرمی کے دبا ئواور بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا، اس صورتحال میں شہریوں کے لیے گھروں میں رہنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ یارہے کہ رواں سال وقت سے پہلے پڑنے والی گرمی پر ماہرین نے سپر ایل نینو کی خطرناک پیشگوئی کردی جس کے نتیجے میں گرمی، سیلاب اور خشک سالی ایک ساتھ آسکتے ہیں۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی موسمی شدت، غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو آئندہ مہینوں میں سنگین موسمی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں

