
تحریر: منصور صدیقی
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 2026 میں بھڑکنے والا تنازعہ دنیا کے لیے ایک شدید خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا۔ ابتدا میں محدود نوعیت کی جھڑپیں جلد ہی ایک وسیع تصادم میں تبدیل ہو گئیں، جس نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں، اسرائیل کے حملے اور امریکہ کی براہِ راست مداخلت نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا۔ عالمی سطح پر یہ خدشات پیدا ہو گئے کہ کہیں یہ تنازعہ ایک بڑی علاقائی جنگ میں نہ بدل جائے۔ تاہم شدید سفارتی دباؤ، عالمی طاقتوں کی مداخلت اور اقتصادی نقصانات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر بالآخر ایک نازک سیز فائر تک رسائی ممکن ہوئی، جس نے وقتی طور پر اس بحران کو روک دیا۔
اس جنگ کے دوران سب سے زیادہ اثر عالمی معیشت پر پڑا۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا کیونکہ خلیجی خطہ عالمی توانائی کی سپلائی کا مرکز ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت اس دوران اور بھی نمایاں ہو گئی، کیونکہ دنیا کا بڑا حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جب اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی بڑھی اور اس کی بندش یا رکاوٹوں کا خطرہ پیدا ہوا تو عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگر آبنائے ہرمز مکمل یا جزوی طور پر بند ہو جاتی تو دنیا بھر میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی تھی، جس سے قیمتیں آسمان کو چھونے لگتیں۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف توانائی مہنگی ہوئی بلکہ ٹرانسپورٹ، پیداوار اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا اور کئی ممالک کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی۔
پاکستان کی معیشت پر اس تنازعے کے اثرات خاص طور پر شدید رہے کیونکہ پاکستان ایک توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والی تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ یا تاخیر نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھا دیا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آیا اور روپے کی قدر متاثر ہوئی۔ ایندھن مہنگا ہونے کے باعث بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا۔ صنعتی شعبہ بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا، کیونکہ پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات متاثر ہوئیں اور کاروباری سرگرمیاں سست ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو مالی خسارے اور سبسڈیز کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس نے معاشی استحکام کو مزید کمزور کیا۔
سیز فائر کے بعد اگرچہ عالمی منڈیوں میں وقتی استحکام آیا اور تیل کی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی، تاہم اس تنازعے کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی بھی متزلزل ہے اور عالمی سطح پر اقتصادی غیر یقینی برقرار ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ سیز فائر کسی مکمل ریلیف سے کم نہیں، لیکن مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور مالیاتی دباؤ جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ اس بحران نے واضح کر دیا ہے کہ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں پر کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشت کو فوری طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 2026 کا تنازعہ اور اس کے بعد ہونے والا سیز فائر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگیاں براہِ راست معاشی بحرانوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ توانائی کی سپلائی کتنی نازک بنیادوں پر قائم ہے۔ اگرچہ سیز فائر نے وقتی سکون فراہم کیا ہے، لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مضبوط، خود کفیل اور بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، معاشی اصلاحات اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ راستے ہیں جو مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں، ورنہ ہر عالمی تنازعہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ بنتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں
شمسی توانائی پر حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی: عوام اور صنعت پر اثرات

