Skip to main contentSkip to footer

امریکا کا ایک اور جدید ترین ایف 35طیارہ تباہ

US F-35 jet crash incident

Table of Contents

امریکا کا ایک اور جدید ترین ایف 35طیارہ تباہ

مشرق وسطی میں جنگ 36ویں روز میں داخل ہو گئی، امریکا اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی، تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے کیے گئے، ایران نے امریکی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، قیشم جزیرے پر لڑاکا طیارہ مار گرایا، ابراہم لنکن بیڑے پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں،

اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 2076 افراد شہید ہو چکے ہیں، 26 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے، ایک لاکھ 13 ہزار شہری املاک کو نقصان ہوا، 90 ہزار گھر اور 760 تعلیمی ادارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی ایف-35 طیارہ اس وقت مار گرایا جب وہ وسطی ایران کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔

فارس نیوز ایجنسی کی ٹیلیگرام پوسٹ میں بتایا گیا کہ لڑاکا طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو کر گر کر تباہ ہو گیا اور طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے بھی ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ شدید دھماکے کی وجہ سے امکان نہیں ہے کہ پائلٹ طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو، امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر ان دعووں پر کوئی ردعمل نہیں دیا،

تاہم اس نے آئی جی آر سی کے پہلے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ اس نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا، تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوریکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔یہ کارروائیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں،

اس کے بعد کہ پاسدارانے انقلاب نے اس سے قبل امریکہ کی 18 بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں اور انھیں مشرقِ وسطی میں اپنی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ایران اور اس کے اتحادیوں کا اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ حملوں کا تبادلہ ہوا ہے جب کہ ایران نے مشرق وسطی میں امریکہ سے جڑی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا، بڑھتے ہوئے حملوں کا رخ اب معاشی اور صنعتی مقامات کی طرف ہو گیا ہے،

جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی زیادہ متاثر ہو سکتی ہے اور جنگ کے اثرات میدان جنگ سے باہر بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ایران نے کہا ہے کہ اس کے تازہ حملوں کی لہر میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ اس کی صنعتی تنصیبات پر پہلے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب تھا، ایران کے مطابق ان اہداف میں ابوظہبی میں امریکی سٹیل صنعتیں، بحرین میں امریکی ایلومینیم صنعتیں، اور صہیونی حکومت کی رفائیل اسلحہ فیکٹریاں شامل تھیں۔

کویت کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ شہر احمدی میں واقع کویت آئل کمپنی کے زیرِِ انتظام چلنے والی ایک آئل ریفائنری کو جمعہ کی صبح سویرے ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں اس ریفائنری کے کئی آپریشنل یونٹس میں آگ لگ گئی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ریفائنری کے کسی بھی کارکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ہنگامی کارروائیاں جاری ہیں اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی ہیں۔اس سے قبل میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے کویت پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ادھر  سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جمعرات سے اب تک پانچ ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک ڈورن حملے کو ناکام بنایا گیا۔

تاہم وزارت کی جانب سے ایکس پر سامنے آنے والے اس بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔اس سے قبل بھی یہ بتایا گیا تھا کہ جمعرات کے روز چار ڈرونز کو روکا گیا اور انھیں فضا میں حملے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ دورسری جانب  اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں رات بھر شدید حملے جاری رہے۔سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں کے دائرہ کار اور اہداف سے متعلق مزید معلومات موصول نہیں ہوئیں۔ادھر یمن کے حوثیوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف میزائل کا چوتھا حملہ کیا گیا اور اہم مقامات نشانہ بنائے گئے اور اسرائیل کی فوج نے یمن سے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔حوثی ترجمان یحیی سیری نے ویڈیو بیان میں کہا کہ گروپ نے بلیسٹک میزائلوں سے اسرائیلی دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور یہ حملوں کا چوتھا مرحلہ ہے، اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے یمن سے فائر کیے گئے میزائل ناکارہ بنایا ہے،

اسرائیل کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن سے اسرائیل کی حدود کی طرف فائر کیے گئے میزائلوں کو مار گرایا گیا اور مشرق وسطی میں جنگ شروع ہونے کے بعد یمن سے فائر کیے گئے میزائلوں کا یہ چوتھا حملہ ہے۔ایران نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی لاجسٹک سینٹر اور اردن میں قائم بیس میں جنگی طیارے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔عراقی سکیورٹی فورسز کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ڈرون حملہ ہوا ہے،

لاجسٹک سینٹر پر دو ڈرون گرے، جس کے نتیجے میں آگ لگی لیکن کسی کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں ہے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔رپورٹ کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس میں عراقی فوجی بیس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی تنصیابات بھی قائم ہیں، ایرانی فورسز نے دعوی کیا کہ اردن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگی طیارے نشانہ بنے۔

ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس میں ایک امریکی فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے، ایران کی فوج کے بہادر سپاہیوں نے اردن کے الازرق بیس پر تعینات امریکا کی دہشت گرد فوج کے جدید لڑاکا طیاروں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کلاڈ کمپیوٹنگ مرکز پر حملہ کیا گیا۔

ادھر ایران میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کے نمائندہ وفد کے سربراہ نے   کہا ہے کہ ایران میں ہنگامی طبی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ٹراما کِٹس اور دیگر طبی سازوسامان کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات کے شکار ایرانی عوام کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک اور 21 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا

Next Post
سائیکل پر دنیا کی سیر کو نکلا جرمن شہری اسلام آباد پہنچتے ہی لٹ گیا
Previous Post
پاکستان جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا