خیبریختونخوا کے وزیراعلی پر دباو میں اضافہ ہونے کے باعث صوبائی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ عارضی طور پر موخر کردیا گیا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ کابینہ فہرست میں اپنے نام شامل نہ ہونے پر صوبائی اسمبلی کے متعدد اراکین نے وزیر اعلیٰ سے نہ صرف سخت شکایات کیں بلکہ کھل کر گلے شکوے بھی کیے جس کے نتیجے میں سیاسی ماحول کشیدہ ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں شمولیت سے محروم رہنے والے اراکین کی بڑی تعداد نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قیادت پر دباو بڑھایا، جس کے باعث حکومتی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگئی۔ دوسری جانب سہیل آفریدی نے بھی ممکنہ ردعمل اور پارٹی کے اندر اختلافات کے خدشے کے پیش نظر فوری طور پر کابینہ توسیع روکنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ایک تنظیمی اجلاس کے دوران جب سہیل آفریدی سے کابینہ میں توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور جلد ہی حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا، تاہم اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کابینہ کے لیے ناموں کو حتمی شکل دی جاچکی تھی لیکن بڑی تعداد میں ارکان صوبائی اسمبلی کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر اس اعلان کو موخر کردیا گیا۔
وزیراعلی پر دباو میں اضافہ کے حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات اور دباو حکومت کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ چند روز میں سہیل آفریدی خاموشی سے کابینہ کا اعلان کر دیں گے تاکہ اندرونی اختلافات کو کم سے کم رکھا جاسکے۔

