Skip to main contentSkip to footer

اسرائیل میں بڑی ہلچل، اہم جرنیل اور جوہری سائنسدان مارے گئے 

Israel General Nuclear Scientist Killed

اسرائیل میں بڑی ہلچل، اہم جرنیل اور جوہری سائنسدان مارے گئے

‏روسی خفیہ ذرائع نے ایک جائزہ جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے پہلے 72 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کو افرادی قوت اور اسٹریٹجک سطح پر نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع ایک انتہائی شدید اور منظم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی دفاعی اور سائنسی برادری کی اہم شخصیات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انٹیلیجنس دعوؤں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کئی اعلیٰ عہدے دار اور خصوصی مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں 11 جوہری سائنس دان اور اسرائیلی دفاعی افواج  کے 6 سینئر جنرل بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ اسرائیل کی فوجی قیادت اور اس کے جدید سائنسی پروگراموں کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔ رپورٹ کا ایک نہایت تشویشناک پہلو دیمونا کے جوہری مرکز سے متعلق ہے، جو طویل عرصے سے اسرائیل کی اسٹریٹجک دفاعی صلاحیتوں سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔

روسی ذرائع کے مطابق شدید بمباری کے دوران ممکن ہے کہ اسرائیل نے عارضی طور پر اس تنصیب کے کچھ حصوں پر عملی رسائی یا کنٹرول کھو دیا ہو، جس سے ملک کی انتہائی حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔قیادت کے نقصانات کے علاوہ، رپورٹ میں اسرائیل کی وسیع فوجی ساخت کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 198 فضائیہ کے افسران اور 462 فوجی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جوابی کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی افواج کی عملی صلاحیت پر کافی دباؤ پڑا۔

انٹیلیجنس جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے اندر بھی نقصان ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ موساد کے 32 تک ایجنٹ ہلاک ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حملوں نے صرف مادی ڈھانچے ہی نہیں بلکہ اہم انٹیلیجنس نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا ہو سکتا ہے۔اسرائیلی حکام نے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی ہے اور جاری تنازع کی افراتفری کے باعث آزادانہ تصدیق کرنا بھی مشکل ہے۔ تاہم ماسکو سے آنے والے یہ دعوے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ تجزیہ کار جسے 2026 کے تصادم کا “جوابی مرحلہ” قرار دے رہے ہیں، وہ انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔

فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بیان کی گئی درستگی کی سطح خاص طور پر سائنس دانوں، جرنیلوں اور انٹیلیجنس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملے—بہت اعلیٰ درجے کی ٹارگٹنگ انٹیلیجنس کا تقاضا کرتی ہے۔اسی وجہ سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایران نے ممکنہ طور پر جدید نگرانی کے نظام، سائبر صلاحیتوں یا بیرونی خفیہ معاونت کا سہارا لیا ہو گا تاکہ اسرائیل کے مضبوط فضائی دفاع اور سیکیورٹی نظام کو عبور کیا جا سکے۔

فی الحال جنگ کی دھند کے باعث اصل صورتحال کافی حد تک غیر واضح ہے اور تنازع کے مختلف فریقین کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
جیسے جیسے صورتحال آگے بڑھ رہی ہے، عالمی مبصرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اسرائیل اور اس کی دفاعی افواج ان رپورٹ شدہ نقصانات کا کیا جواب دیتی ہیں، اور آیا آئندہ دنوں میں دیمونا جیسے حساس مراکز کی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے،امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے صرف 9 دن گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے آئے ہیں اسکے مطابق ایران، چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں۔

ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت، اردن، قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ، آئرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے،

لیکن ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے۔ اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی ۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔

لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے
‏اسے نشانہ بنایا گیا ۔

سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔

آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے

۔
جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج 7 دن ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔

دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔

سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔

نیتن یاہو زندہ یا ہلاک؟ اے آئی ویڈیو نے شکوک و شبہات بڑھادیئے

Next Post
ایک لاکھ افراد کی افطاری تیار کرنیوالی دنیا کی سب سے بڑی دیگ نصب
Previous Post
ایرانی حملے کی 51 ویں لہر، اسرائیلی شہر ہولون میں سائرن بج گئے